Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 108

By Maulana Wahiduddin Khan

مولانا ابوالکلام آزاد نے اپنی کتاب آزادی ہند (India Wins Freedom) میں لکھا ہے کہ یہ حقیقت ہے کہ لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے تقسیم کے نظریہ کا سب سے پہلا شکار جو شخص ہوا وہ سردار پٹیل تھے۔ غالباً بالکل آخر تک مسٹر جناح کے لئے پاکستان محض ایک سودا بازی کا معاملہ تھا : Till perhaps the very end Pakistan was for Jinnah a bargaining counter. (p. 183) مسٹر جناح کے بارے میں یہ بات دوسرے کئی اصحاب نے بھی لکھی ہے اور اس سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ کانگریس قیادت اگر ہوش مندی سے کام لیتی تو تقسیم سے بچنا ممکن تھا۔ میرے نزدیک یہ بات درست نہیں۔ اصل یہ ہے کہ سودا بازی کی دو قسمیں ہیں۔ ایک یہ کہ دو آدمیوں کی گفت و شنید کے دوران اس کو اختیار کیا جائے ۔ دوسرے یہ کہ عوام کو بھی اس میں شامل کر لیا گیا ہو۔ مسٹر جناح کا معاملہ اول الذکر نوعیت کا معاملہ نہ تھا۔ اگر وہ تقسیم کی سودے بازی کو محض ذاتی سطح کی گفت و شنید میں اختیار کئے ہوئے ہوتے تو کسی مرحلہ میں وہ اس سے دست بردار بھی ہو سکتے تھے۔ مگر جناح اور ان کے ساتھیوں نے تقسیم کے موضوع پر سارے مسلم عوام کو بھڑکا دیا تھا۔ حتیٰ کہ انھوں نے سب الفا آمیزی کر کے اس کو آخری حدوں کے پار پہنچا دیا تھا۔ ایسی حالت میں خود مسلم لیگ کی قیادت کے لئے مطالبہ تقسیم سے پیچھے ہٹنا ممکن نہ تھا۔ عوامی ابال کو اس طرح پیچھے کی طرف لوٹانا کبھی ممکن نہیں ہوتا۔ ۲۲ جون ۱۹۸۳ بطلیموس (Ptolemy) دوسری صدی عیسوی کا مشہور یونانی عالم فلکیات ہے۔ اس نے نظام شمسی کا زمین مرکزی (Earth-centered) نظریہ پیش کیا۔ اس موضوع پر اس کی کتاب المجستی بہت مشہور ہے۔ بطلیموس کا نظریہ تقریباً ڈیڑھ ہزار سال تک عالمی ذہن پر چھایا رہا، یہاں تک کہ سولہویں صدی عیسوی میں کو پر نیکس اور گیلیلیو اور کیپلر کی تحقیقات نے اس کو غلط ثابت کر دیا، اور اب ساری دنیا میں کوئی اس کو ماننے والا نہیں۔ اس طرح کے کتنے نظریات ہیں جو مدت و مدت کے لئے ذہنوں پر چھاتے ہیں اور پھر برف غلط کی طرح مٹا دیئے جاتے ہیں۔ مگر توحید کا نظریہ زمانہ کے بے شمار نشیب و فراز کے باوجود اپنی اہمیت کم نہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page