Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 109

By Maulana Wahiduddin Khan

کر سکا۔ بلکہ ہر نئی تحقیق اس کی اہمیت و واقعیت میں مزید اضافہ کر دیتی ہے۔ یہ واقعہ اس بات کا قطعی ثبوت ہے کہ توحید ایک واقعی حقیقت ہے نہ کہ محض ایک فرضی عقیدہ۔ (زمین مرکزیت کے نظریے کے لئے عیسائی نقطہ نظر: 4/522-EB) ۲۳ جون ۱۹۸۳ء امام بخاری نے محمد بن جبیر بن مطعم سے روایت کیا ہے کہ ان کے والد (جبیر بن مطعم) نے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب کی نماز میں سورہ الطور پڑھتے ہوئے سنا۔ جب آپ اس آیت پر پہنچے: ام خلقوا من غير شيء ام هم الخالقون - ام خلقوا السماوات والارض بل لا يوقنون ام عندهم خزائن ربك ام هم المصيطرون - تو ان الفاظ کو سن کر مجھے ایسا محسوس ہوا کہ میرا دل اسلام کی طرف اڑ جائے گا (کاد قلبي ان يطير الى الاسلام ) مفسر ابن کثیر اس ذیل میں لکھتے ہیں : وجبیر بن مطعم کان قد قدم علی النبی اور جبیر بن مطعم بدر کے واقعہ کے بعد رسول اللہ صلی صلی اللہ علیہ وسلم بعد وقعة بدر فی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تھے تا کہ فدیہ دے کر فداء الاساری وکان اذ ذاک مشرکاً اپنے قیدیوں کو چھڑائیں۔ اور وہ اس وقت مشرک فکان سماعه هذه الآية من هذه السورة تھے۔ اس لئے سورہ طور کی ان آیتوں کا سننا من جملہ من جملة ما حمله على الدخول فى الاسلام ان اسباب کے تھا جس نے اس کے بعد انھیں اسلام میں بعد ذالك (صفحه ۲۴۷) داخل ہونے پر آمادہ کیا۔ اس واقعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ دورِ اول کے لوگ شعوری انقلاب کے تحت ایمان لائے تھے۔ ان کا ایمان ان کے لئے حقیقت کی دریافت کے ہم معنی تھا نہ کہ محض روایتی تقلید کے ہم معنی جیسا کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں میں پایا جاتا ہے۔ ۲۲ جون ۱۹۸۳ حدیث میں آیا ہے کہ مَنْ فَارَقَ الجَمَاعَةَ شِبْرًا فَقَدْ خَلَعَ رِبْقَةَ الْإِسْلَامِ مِن عُنُقِهِ ، جو شخص ایک بالشت بھر بھی الجماعت سے ہٹا اس نے اسلام کی رسی اپنی گردن سے نکال پھینکی۔ اسی طرح دوسری حدیث میں ہے يد الله على الجماعة (الجماعت پر خدا کا ہاتھ ہے، اس طرح کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page