ڈائری
Urdu book, p. 11
By Maulana Wahiduddin Khan
اٹھا۔ جب اس کو معلوم ہوا کہ یہ لینن کے خفیہ اخبار کا پھٹا ہوا ٹکڑا ہے تو اس نے اس اخبار کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر پڑھنا شروع کیا۔ یہاں تک کہ وہ لینن سے جا ملا اور روسی کمیونسٹ پارٹی کا ایک سرگرم ممبر بن گیا۔ یہ اس زمانے کی بات ہے جب کہ روس میں زار کی حکومت تھی۔ زار کی حکومت لینن کو گرفتار کر کرنا چاہتی تھی۔ چنانچہ وہ ایک پہاڑی علاقہ میں رو پوش ہو گیا۔ اور وہاں سے ایک خفیہ اخبار کے ذریعہ اپنا پیغام لوگوں تک پہنچاتا رہا۔ انسان کے اندر اگر عمل کا جذبہ ہو تو کوئی رکاوٹ اس کے لئے رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ وہ ہر مشکل میں آسانی کو ڈھونڈ لے گا، وہ ہر گھاٹی میں اپنے لئے راستہ نکال لے گا۔ ۱۵ جنوری ۱۹۸۳ ایک مرتبہ میں ٹرین سے کیر الا کا سفر کر رہا تھا۔ اسٹیشن پر اترا تو باہر جاتے ہوئے میرا ایک عیسائی مشنری کا ساتھ ہو گیا۔ راستہ میں باتیں ہوتی رہیں، یہاں تک کہ سڑک کا دوڈور آگیا جہاں سے میرا اور اس راستہ الگ ہوتا تھا۔ جب ہم دونوں آخری طور پر رخصت ہونے لگے تو اس نے ایک چھوٹا سا انگریزی میں لیف لٹ نکالا اور میرے ہاتھ میں دے دیا۔ یہ لیف لٹ میں نے پڑھا اور پھر عرصہ تک وہ میرے پاس رہا۔ یہ ایک قابل تقلید طریقہ ہے۔ ہمارے پاس بھی چھوٹے چھوٹے عمدہ چھپے ہوئے دوور پتہ ہونے چاہئیں جن کو مسلمان اپنے پاس رکھیں اور سفر وغیرہ میں لوگوں تک پہنچائیں۔ ۱۶ جنوری ۱۹۸۳ اقبال (۱۹۳۸ - ۱۸۷۷) نے پہلے اپنا یہ مشہور شعر کہا تھا: سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا ہم بلبلیں ہیں اس کی یہ گلستاں ہمارا اس کے بعد ان کے خیال نے مزید پرواز کی، انھوں نے پر فخر طور پر کہا: چین و عرب ہمارا ہندوستان ہمارا مسلم ہیں ہم وطن میں سارا جہاں ہمارا اقبال کی اس شاعرانہ بلند پر وازی پر اکبر الٰہ آبادی نے کہا تھا: رقیب کو کم سمجھ کر اقبال بول اٹھے ہندوستان کیسا سارا جہاں ہمارا مگر یہی اقبال تھے جنھوں نے ۱۹۳۰ میں یہ نظریہ پیش کیا کہ ملک کو تقسیم کر کے مسلمانوں کو ایک پاکستان" دے دیا جائے ۔ لفظی دنیا میں اقبال کا مطلوب سارا جہان تھا۔ مگر عمل کی دنیا میں اس کا ایک بے حد چھوٹا سا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader