Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 110

By Maulana Wahiduddin Khan

مواقع پر عام طور پر لوگ الجماعت سے مراد سواد اعظم لیتے ہیں یعنی کسی زمانہ کے مسلمان یا کسی زمانہ کے اہل دین جس پر زیادہ تعداد میں متفق ہو جائیں۔ مگر الجماعت کی یہ تشریح صحیح نہیں۔ "الجماعت" کی تشریح خود حدیث میں موجود ہے۔ ایک حدیث مختلف طرق سے آئی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ سابقہ اہل کتاب ۷۲ فرقوں میں بٹ گئے اور امت مسلمہ ۷۳ فرقوں میں بٹ جائے گی۔ ان میں سے صرف الجماعت برحق اور مستحق جنت ہوگی۔ وف واحدة في الجنة وهي الجماعة، ترمدی کی روایت میں ہے کہ صحابہ کرام نے پوچھا کہ یہ الجماعت کون لوگ ہیں۔ آپ نے جواب دیا: وہ جو اس پر جوجس پر میں اور میرے اصحاب ہیں (من كان علی ما انا عليه واصحابی) رسول اور اصحاب رسول اس ملت میں اصل معیار کی حیثیت رکھتے ہیں۔ وہ "الجماعت" ہیں۔ ہر زمانہ کے مسلمانوں کو ہر معاملہ میں انھیں کی طرف دیکھنا ہے۔ بعد کے مسلمان دور اول کی اس الجماعت پر پرکھے جائیں گے نہ کہ خود اپنے زمانہ کے سواد اعظم یا اکثریتی گروہ کی بنیاد پر۔ مثلاً ہندوستان میں مسلمان پہلی جنگ عظیم کے بعد خلافت کمیٹی میں بہت بڑی اکثریت کے ساتھ شامل ہو گئے۔ تقسیم ہند سے پہلے مسلمانوں کی بیشتر تعداد مسلم لیگ کے تحت جمع ہو گئی۔ آجکل مسلمانوں کی اکثریت آل انڈیا مسلم پرسنل لاہور ڈ کے ساتھ شریک ہے۔ مگر ان میں سے کوئی بھی الجماعت نہیں۔ الجماعت کی حیثیت صرف رسول اور اصحاب رسول کو حاصل ہے، اور ان کی یہ حیثیت ہمیشہ باقی رہے گی ۔ مثلاً آج کسی مسلمان کا صحیح یا غلط ہونا اس پر نہیں جانپا جائے گا کہ وہ آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ کے ساتھ شریک ہے کہ نہیں۔ بلکہ اس کو اس اعتبار سے جانچا جائے گا کہ اس کا رویہ رسول اور اصحاب رسول کے رویہ کے مطابق ہے یا نہیں۔ ۲۵ جون ۱۹۸۳ ایک عربی کتاب میں یہ واقعہ پڑھا کہ حضرت عبد اللہ بن عباس نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ اپنے روح کے ساتھ چلا جا رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر وہ زندہ رہا تو وہ تم کو فتنے میں مبتلا کرے گا، اور اگر وہ مر گیا تو تم کو غمگین کرے گا (رأى عبد الله بن عباس رضی اللہ عنہما رجلاً يسير مع ابنه فقال ان عاش فتنك وان مات احزنك) اس کا مطلب غالباً یہ ہے کہ آدمی اپنی اولاد سے بے پناہ تعلق قائم کرتا ہے۔ حتیٰ کہ اولاد ہر آدمی کی سب سے زیادہ محبوب چیز ہوتی ہے، مگر اکثر حالات میں اولاد سے اس کی توقعات پوری

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page