ڈائری
Urdu book, p. 111
By Maulana Wahiduddin Khan
نہیں ہوتیں۔ اگر بالفرض وہ کم عمری میں مر جائے تو باپ کو شدت محبت کی وجہ سے شدید صدمہ لاحق ہوتا ہے، اور اگر وہ زیادہ دنوں تک زندہ رہے تب بھی اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بیٹے کی محبت باپ کو کسی نہ کسی آزمائش میں مبتلا کر دیتی ہے۔ مثلاً اولاد کی وجہ سے انفاق فی سبیل اللہ میں کمی۔ اولاد کا مستقبل بنانے کی خاطر غلط کارروائی کرنا، اولاد کے اصرار کی وجہ سے دوسروں کی حق تلفی کرنا، وغیرہ۔ دنیا میں سچے بیٹے بھی کم ہیں اور سچے باپ بھی کم۔ ۲۶ جون ۱۹۸۳ء محمد حسین آزاد اپنی کتاب ”آب حیات“ کی وجہ سے کافی مشہور ہیں۔ ان کے والد کا نام مولانا محمد باقر تھا۔ انھوں نے ۱۸۳۶ء میں دہلی سے ”اردو اخبار“ جاری کیا۔ ۱۸۵۴ء میں محمد حسین آزاد بھی اس میں ایڈیٹر کی حیثیت سے شریک ہوگئے۔ ۱۸۵۷ء کے غدر (یا جنگ آزادی) کے زمانہ میں ”اردو اخبار“ نے انگریزوں کے خلاف دھواں دھار مضامین شائع کئے۔ مگر انگریزوں کے خلاف بغاوت مکمل طور پر ناکام ہوگئی۔ اس کے بعد پردہ سرکہ شروع ہوئی، مولانا محمد باقر گرفتار کرلئے گئے اور انھیں گولی مار دی گئی۔ محمد حسین آزاد بھاگ کر روپوش ہوگئے۔ آخر میں انھوں نے سیاست سے علیحدگی اختیار کرلی اور انگریزوں کے ایک تعلیمی ادارہ گورنمنٹ کالج لاہور، میں لازم ہو گئے۔ اس کے بعد محمد حسین آزاد کی سیاسی مضمون نگاری ادبی مضمون نگاری میں تبدیل ہوگئی۔ آب حیات اسی دوسرے دور کی تصنیف ہے۔ انیسویں صدی کے نصف آخر اور بیسویں صدی کے نصف اول میں مسلمانوں کے درمیان بڑی تعداد میں اعلیٰ ذہن کے لوگ پیدا ہوئے۔ مگر وہ اپنی صلاحیتوں کا صرف دو استعمال دریافت کرکے ___ مشغلہ سیاست یا مشغلہ ادب۔ ان کی صلاحیت کا اصلی اور دور رس استعمال صرف مشغلہ دعوت تھا۔ مگر وہ ان کی دریافت سے باہر رہا، اس لئے وہ اپنے آپ کو اس میں مشغول بھی نہ کرسکے۔ ۲۶ جون ۱۹۸۳ء انگریزی دور میں ہمارے علماء اور ہمارے رہنماؤں نے انگریزوں کے خلاف اس قدر نفرت پیدا کی کہ وہ حد کو پار کر گئی۔ ”نفرت انگریز“ بجائے خود ایک نیکی بن گئی۔ انگریز جب ہندوستان آئے تو مشینیں ایجاد ہو چکی تھیں اور اسٹیم پاڈر در یافت ہو چکی تھی۔ مگر بڑھی ہوئی نفرت کی بنا پر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader