Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 112

By Maulana Wahiduddin Khan

لوگوں نے انگریزوں کی اچھی چیز کو بھی بری نظر سے دیکھا۔ اس کا ایک نمونہ اکبر الہ آبادی (۱۹۲۱- ۱۸۴۶) کا یہ قطعہ ہے : پانی پینا پڑا ہے پائپ کا حرف پڑھنا پڑا ہے ٹائپ کا پیٹ چلتا ہے آنکھ آتی ہے شاہ ایڈورڈ کی دہائی ہے اس منفی بلکہ جنونانہ نفرت کے ذہن کا یہ نتیجہ ہوا کہ مسلمان لمبے عرصے تک جدید علوم اور جدید ٹکنالوجی سے بیزار رہے۔ اور بالآخر جدید شعبوں میں دوسری قوموں سے کم از کم سو سال پیچھے ہو گئے۔ ۲۸ جون ۱۹۸۳ امام حسن بصری تابعی کا قول ہے کہ تدبیر آدھا کسب ہے ( التدبیر نصف الکسب) یہ بڑی حکیمانہ بات ہے۔ اس تدبیر کا تعلق ہر قسم کے کسب سے ہے۔ معاش حاصل کرنے کا معاملہ ہو یا اور کوئی معاملہ، ہر چیز میں تدبیر فیصلہ کن حد تک اہمیت رکھتی ہے۔ خوش تدبیری سے بگڑا ہوا معاملہ بن جاتا ہے، اور بدتدبیری سے بنا ہوا معاملہ بگڑ جاتا ہے۔ ۲۹ جون ۱۹۸۳ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے بھائی کے لئے وہی چیز پسند کرو جو تم خود اپنے لئے پسند کرتے ہو ( احب لأخيك ما تحب لنفسك)، اس حدیث نبوی میں مختصر ترین الفاظ میں مفصل ترین بات کہہ دی گئی ہے۔ یہ اخلاق انسانی کی بنیاد ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس سے بہتر الفاظ میں اخلاق انسانی کی تشریح نہیں کی جاسکتی۔ اگر آدمی سنجیدہ ہو تو یہی ایک جملہ اس کی پوری زندگی میں اخلاقی سدھار لانے کے لئے کافی ہے۔ ۳۰ جون ۱۹۸۳ ابن عطاء اللہ اسکندری کا قول ہے کہ اس شخص نے کیا پایا جس نے خدا کو کھو دیا، اور اس شخص نے کیا کھویا جس نے خدا کو پالیا (ماذا وجد من فقدہ وماذا فقد من وجده ) یعنی جو شخص اللہ کو پالے وہ کچھ بھی نہیں کھوتا، خواہ اس نے بظاہر کتنا ہی زیادہ نقصان اٹھایا ہو۔ اور جو شخص اللہ کو کھو دے وہ کچھ بھی نہیں پاتا، خواہ بظاہر اس نے بہت کچھ حاصل کر لیا ہو۔ اللہ سب کچھ ہے اور اس کے سوا جو ہے وہ بے کچھ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page