Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 113

By Maulana Wahiduddin Khan

یکم جولائی ۱۹۸۳ کسی شخص کا قول ہے کہ کامیابی کبھی آخری نہیں ہوتی اور ناکامی کبھی قطعی نہیں ہوتی۔ یہ دراصل حوصلہ ہے جو اہمیت رکھتا ہے : Success is never final and failure never fatal. It's courage that counts. اس دنیا میں کامیابی پر کُن ہونا بھی اتنا ہی بے معنی ہے جتنا ناکامی پر بے حوصلہ ہونا۔ کیونکہ یہاں کامیابی بھی وقتی ہے اور ناکامی بھی وقتی۔ آدمی اپنی نادانی سے کامیابی کو ناکامی میں تبدیل کر سکتا ہے اور اسی طرح اپنی بے ہستی سے ایک ناکامی کو آخری ناکامی بنا سکتا ہے۔ حالاں کہ اگر وہ ہمت سے کام لیتا تو اس کے بعد بھی اس کے لئے ایک نئی عظیم تر کامیابی کا دروازہ کھلا ہوتا۔ ۲ جولائی ۱۹۸۳ زمانہ نبوت کا واقعہ ہے۔ عرب کے ایک بدو نے قرآن کی یہ آیت سنی : فاصدع بما تؤمر۔۔۔ وہ اسی وقت سجدہ میں گر پڑا۔ اس سے پوچھا گیا کہ کیا تم نے ایمان قبول کر لیا۔ اس نے جواب دیا کہ نہیں، بلکہ میں نے اس آیت کی ادبی بلاغت کی وجہ سے سجدہ کیا ہے (ان بدو يأسمع قول الله؛ فاصدع بما تؤمر... فسجد فى الحال فقيل له هل آمنت فرد قتائلاً بدل سجدت لبلاغة هذه الآية) قدیم صحرائی دور میں عرب میں جو نسل تیار ہوئی تھی، اس کے اندر اعتراف کا مادہ بہت زیادہ تھا۔ وہ کسی حقیقت کو جان لینے کے بعد اس کا اعتراف کئے بغیر نہیں رہ سکتے تھے۔ ان کی یہی خصوصیت تھی جس نے ان کے اندر مومنین کا لیس کا وہ گروہ پیدا کیا جو ہمیشہ کے لئے اسلام کا نمونہ قرار پائے۔ ۳ جولائی ۱۹۸۳ ترکی کے سعید النورسی (۱۹۶۰-۱۸۷۳) ترکی کے حسن البنا تھے۔ وہ کمال اتاترک کے سیکولرزم کے مخالف تھے۔ انھوں نے اپنے مشہور رسائل النور کے ذریعہ ترکی کے نوجوانوں میں اسلامی جذبہ بیدار کرنے کی کوشش کی۔ وہ کہتے تھے کہ اسے مغرب، تو نے انسان کے جسم کو جنت میں پہنچا دیا اور اس کی روح کو جہنم میں ڈال دیا۔ (ايها الغرب، وضعت جثة البشرية فى الجنة ووضعت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page