ڈائری
Urdu book, p. 114
By Maulana Wahiduddin Khan
روح البشرية في جهنم ) یہ بات بذات خود غلط نہیں ۔ مگر میں سمجھتا ہوں کہ یہ سائنٹفک انداز نہیں ہے بلکہ جذباتی اور خطابی انداز ہے۔ خطابی انداز کچھ لوگوں میں وقتی جوش تو پیدا کر سکتا ہے ، مگر وہ گہری شعوری تبدیلی لانے کے لئے کار آمد نہیں ۔ ۴ جولائی ۱۹۸۳ البرٹ ہبرڈ کا قول ہے کہ ناکام شخص در اصل وہ ہے جس نے ایک غلطی کی مگر وہ اس قابل نہیں کہ اپنی غلطی سے تجربہ حاصل کر سکے : A failure is a man who has blundered but is not able to cash in one the experience. غلطی سے اگر آدمی سبق لے سکے تو وہ غلطی غلطی نہیں۔ غلطی در اصل وہ ہے جو آدمی کو سبق تک نہ پہنچائے ، جو اس کے شعور میں اضافے کا ذریعہ ثابت نہ ہو۔ ۵ جولائی ۱۹۸۳ حضرت عمر فاروق اور حضرت عبد اللہ بن مسعود کے درمیان دوسرے مسائل میں اختلاف رائے تھا۔ دونوں اپنی اپنی رائے پر مصر بھی تھے۔ اس کے باوجود دونوں کے تعلق میں کوئی فرق نہیں آیا۔ حضرت عمر فرماتے تھے کہ " ابن مسعود علم و فقہ کا خزانہ ہیں " اور جب حضرت عمر شہید ہوئے تو حضرت عبد اللہ بن مسعود نے کہا: عمر اسلام کا مضبوط قلعہ تھے۔ جو اس میں داخل ہوتا وہ باہر نہ جاتا۔ جب وہ نہ رہے تو اسلام کے قلعہ میں دراز پڑگئی۔ ۶ جولائی ۱۹۸۳ امام احمد بن جنبل خون نکلنے کو ناقض وضو سمجھتے تھے۔ دوسری طرف امام مالک اور سعید بن مسیب کا یہ مسلک تھا کہ ایک شخص وضو کرے اور کسی وجہ سے اس کے بعد اس کے جسم سے خون نکل آئے تو وضو نہیں ٹوٹے گا، وہ اسی سابقہ وضو سے نماز پڑھ سکتا ہے۔ اس اختلاف کی روشنی میں امام احمد بن حنبل سے پوچھا گیا کہ " اگر نو کے بعد ہمارے جسم سے خون نکل آئے اور وہ دوبارہ وضو کے بغیر نماز پڑھ لے تو کیا اس کے پیچھے نماز ادا کنا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader