ڈائری
Urdu book, p. 115
By Maulana Wahiduddin Khan
کیسے نماز ادا نہ کروں۔ اسی طرح امام ابو یوسف خون نکلنے کی صورت میں وضو کے جاتے رہنے کے قائل تھے۔ ان کی موجودگی میں ہارون رشید نے نماز پڑھائی جب کہ اس نے وضو کے بعد پچھنا لگوایا تھا۔ مگر امام ابو یوسف نے اعتراض نہیں کیا۔ انھوں نے ہارون رشید کے پیچھے نماز ادا کر لی اور پھر اس کو نہیں دہرایا۔ اس سے اجتماعیت کا حکم معلوم ہوتا ہے۔ اسلام میں اجتماعیت کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ ”امام“ سے اگر ایسا فعل صادر ہو جو مقتدی کے نزدیک نماز کو فاسد کر دینے والا ہو، تب بھی مقتدیوں کو اپنی نیت کے مطابق اس کے پیچھے نماز ادا کرنا چاہئے۔ حتی کہ بعد کو اپنی نماز کو دہرانا بھی نہیں چاہئے۔ کیوں کہ نماز کا دہرانا بھی غیر ضروری خلفشار کا باعث ہو سکتا ہے۔ ۷ جولائی ۱۹۸۳ء مولانا محمود حسن دیوبندی (۱۹۰۲ - ۱۸۵۱) کا ایک واقعہ مولانا اشرف علی تھانوی (۲۴۳ ۱۹۔ ۱۸۴۳) نے لکھا ہے۔ یہ واقعہ انھیں کے الفاظ میں حسب ذیل ہے: ” مولانا ایک مرتبہ مراد آباد تشریف لے گئے تو وہاں کے لوگوں نے وعظ کہنے کے لئے اصرار کیا۔ مولانا نے عذر فرمایا کہ مجھے عادت نہیں ہے۔ مگر لوگ نہ مانے تو اصرار پر وعظ کے لئے کھڑے ہو گئے۔ اور حدیث فقیه واحد اشد علی الشیطان من ألف عابد پڑھی، اور اس کا ترجمہ یہ کیا کہ؛ ایک عالم شیطان پر ہزار عابد سے زیادہ بھاری ہے۔ مجمع میں ایک مشہور عالم موجود تھے۔ انھوں نے کہا کہ یہ ترجمہ غلط ہے اور جس آدمی کو ترجمہ بھی صحیح ذکر نہ آوے اس کو وعظ کہنا جائز نہیں“۔ ترجمہ صحیح تھا، اور ان صاحب کا انداز بیان توہین آمیز ہی نہیں اشتعال انگیز بھی تھا۔ لیکن شیخ الہند یہ کہتے ہوئے بیٹھ گئے کہ __ میں تو پہلے ہی کہتا تھا کہ مجھے وعظ کی لیاقت نہیں۔ مگر ان لوگوں نے نہیں مانا۔ خیر اب میرے پاس عذر کی دلیل بھی ہو گئی یعنی آپ کی شہادت۔ وعظ تو پہلے ہی مرحلہ میں ختم فرما دیا۔ اس کے بعد ان عالم صاحب سے بطرز استفادہ دریافت کیا کہ غلطی کیا ہے؟ تاکہ آئندہ بچوں۔ انھوں نے فرمایا کہ اشد کا ترجمہ اتقی (زیادہ بھاری) نہیں بلکہ افسر زیادہ نقصان دہ) آتا ہے۔ شیخ الہند نے فرمایا کہ حدیث وحی میں ہے یاتینی مثل صلصلة الجرس وهو اشد علی، کبھی مجھ پر وحی گھنٹیوں کی آواز کی طرح آتی ہے اور وہ مجھ پر سب سے زیادہ بھاری ہوتی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader