Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 116

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے، کیا یہاں بھی افسر کے معنی ہیں۔ اس پر وہ صاحب دم خود رہ گئے۔ (ارواح ثلاثہ صفحہ ۲۸۶) مغل سرائے، ہند کا ایک بڑا ریلوے اسٹیشن ہے۔ یہاں دو انگریز ملٹری فارم پر چل رہے تھے۔ پیچھے والے کے ہاتھ میں ایک ٹرنک تھا۔ اس نے تیز چلتے ہوئے آگے بڑھنا چاہا تو اس کا ٹرنک اگلے انگریز سے ٹکرا گیا اور وہ گر پڑا۔ اس کے بعد جو واقعہ ہوا وہ صرف یہ کہ پیچھے والے مسافر نے کہا ساری (sorry) آگے والے مسافر نے کہا او کے (.O.K) ۱۰ اور پھر دونوں بدستور اپنے سفر پر روانہ ہو گئے۔ غلطی کا اعتراف کر لینے سے معاملہ فوراً ختم ہو جاتا ہے، اور غلطی کا اعتراف نہ کرنے سے بڑھتا رہتا ہے، یہاں تک کہ فساد کا سبب بن جاتا ہے۔ ۹ جولائی ۱۹۸۳ء میں گھر کے اندر داخل ہوا تو میں نے دیکھا کہ چار پائی بچھھی ہوئی ہے۔ بیٹی اس پر لیٹی ہے، اور ماں ایک طرف بیٹھی ہوئی ہے۔ یہ منظر دیکھ کر میں نے کہا کہ ہندوستان میں ہندوؤں اور مسلمانوں کا جو مسئلہ ہے اس کی حقیقت بس اتنی ہی ہے جو اس واقعہ میں نظر آتی ہے۔ چار پائی پر بیٹی لیٹی ہے اور ماں بیٹھی ہے تو اس سے کوئی بگاڑ پیدا نہیں ہوا۔ لیکن اگر لیٹنے والی بہو ہو اور بیٹھنے والی ساس ہو تو گھر میں طوفان برپا ہو جائے گا۔ ہندوستان کے مسلمانوں نے اپنے اور ہندوؤں کے درمیان ساس اور بہو والا رشتہ قائم کیا۔ اسی بنا پر سارے جھگڑے ہیں۔ مسلمان لگاپنے اور ہندوؤں کے درمیان ماں اور بیٹی والا رشتہ قائم کرتے تو کوئی جھگڑا نہ ہوتا اور سارا معاملہ بالکل درست رہتا۔ ۱۰ جولائی ۱۹۸۳ء غالباً ۱۹۶۵ء کی بات ہے۔ میں لکھنؤ میں حضرت گنج کے قریب ایک سڑک پر چل رہا تھا۔ میں ایک موڑ پر پہنچا تو دیکھا کہ ایک نوجوان تیزی سے سائیکل دوڑاتا ہوا آ یا اور عین موڑ پر ایک راہگیر سے ٹکرا گیا۔ سائیکل رک گئی اور راہگیر بھی سڑک پر گر پڑا۔ اس کے بعد دونوں میں جو گفت گو ہوئی وہ یہ تھی : گھنٹی کیوں نہیں بجائی " راہگیر نے کہا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page