ڈائری
Urdu book, p. 117
By Maulana Wahiduddin Khan
گھنٹی نہ ہو تو “ نوجوان نے جواب دیا۔ ” بریک کیوں نہیں لگایا “ ” بریک نہ ہو تو “ ” جب تمہارے پاس گھنٹی نہیں، تمہارے پاس بریک نہیں تو پھر تیز کیوں دوڑاتے ہو “ ” کیا تم سے پوچھ کر دوڑاؤں؟“ آدمی اگر ماننا چاہے تو کوئی دلیل اس کو چپ نہیں کر سکتی، خواہ وہ دلیل بذات خود کتنی ہی معقول اور مدلل کیوں نہ ہو۔ 11 جولائی 1983 1957 میں رامپور جانے سے پہلے تک میں اپنے بڑے بھائی عبد العزیز خاں کے ساتھ رہتا تھا، میں ” بیوی بچوں والا “ ہو چکا تھا، مگر اب تک میں نے کوئی معاشی کام نہیں کیا تھا۔ چنانچہ میرے بارہ میں عجیب عجیب تبصرے کئے جاتے تھے۔ ہمارے گھر پر یہ طریقہ تھا کہ گیہوں کا آٹا چھان کر اس کی بھوسی نکالی جاتی تھی اور پھر میدہ سے روٹی پکتی تھی۔ میں اس کا مخالف تھا۔ میں کہتا تھا کہ گیہوں کو چھانے بغیر اس کی روٹی پکائی جائے۔ جب گھر والے اس پر عمل نہ کرتے تو میں چوکر کی روٹی پکو کر اس کو کھایا کرتا تھا۔ اقبال احمد سہیل مرحوم کے زراعی منیجر بھارت وفات | اسے میری والدہ نے اس کا فرک کیا تو انھوں نے کہا; بھوسی چو کر کھا کر کھانے سے چھٹی نہیں ملے گی۔ ان کے نزدیک میرا یہ طریقہ نہ کمانے کی تلافی کے لئے تھا۔ کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو مجھے ” پاگل “ کہتے تھے۔ ڈاکٹر مقبول احمد (ایف آرسی ایس) نے میرے حالات سنے تو کہا کہ ان کی اپنی زندگی تو بھائی کے ساتھ گزر جائے گی، مگر اس کے بعد ان کے بچوں کا کیا ہوگا۔ غالباً 1953 کی بات ہے۔ اس وقت میں اعظم گڑھ (رباتی منزل) میں اپنے بڑے بھائی عبد العزیز خاں کے ساتھ رہتا تھا۔ شاہ فیضان احمد وکیل کی بہن رضیہ خاتون | ) میری بیوی سے ملنے کے لئے کبھی کبھی آتی تھیں۔ ایک روز انھوں نے بیوی سے میرے بارہ میں کہا کہ وہ کچھ کام نہیں کرتے پھر آپ کا اور بچوں کا کیا ہوگا ۔ میری بیوی نے مجھ سے ذکر کیا تو میں نے کہا کہ رضیہ خاتون کو میری طرف

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader