Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 118

By Maulana Wahiduddin Khan

سے یہ جواب دے دو کہ ـــــ یہ کشتی اپنے تمام سواروں سمیت بس اللہ کے حوالے ہے۔ انگریزی کا ایک مقولہ ہے کہ سیاست ممکن کافن ہے: Politics is the art of possible. یعنی سیاست ناممکن چیزوں کے پیچھے دوڑنے کا نام نہیں۔ حقیقی سیاست یہ ہے کہ جو چیز فی الواقع ممکن اور قابلِ حصوں ہو، اس کو نشانہ بنا کر اس کے لئے جدوجہد کی جائے۔ یہ بات بظاہر بہت سادہ سی ہے۔ مگر وہ نہایت اہم ہے۔ اس دنیا میں اکثر اقدامات کی ناکامی کا سبب یہی ہوتا ہے کہ جوش اور اولوالعزمی کے تحت لوگ ایک نعرہ کے پیچھے دوڑ پڑے۔ مگر جب ان کی دوڑ اپنے آخری انجام پر پہنچی تو معلوم ہوا کہ جس چیز کو نشانہ بنا کر وہ دوڑے تھے، وہ اسباب کی اس دنیا میں ان کے لئے قابلِ حصول ہی نہ تھی۔ ۳ جولائی ۱۹۸۳ء ۱۹۵۶ء میں جماعت اسلامی ضلع اعظم گڑھ وجونپور کے متفقہ فیصلہ کے تحت مجھ کو اعظم گڑھ اور جونپور کا ناظم منتخب کیا گیا تھا۔ میں نے دونوں ضلعوں میں کام کو از سرِ نو منظم کرنے کا ایک منصوبہ بنایا۔ اس میں دوسری چیزوں کے ساتھ یہ بھی شامل تھا کہ نظامت کے لئے ایک جیپ خریدی جائے اور اس کے ذریعہ دونوں ضلعوں میں کام کو آگے بڑھایا جائے۔ جب میں نے اجتماع میں یہ تجویز پیش کی تو وہی لوگ اس تجویز کے مخالف ہو گئے جنہوں نے متفقہ رائے سے مجھے ناظم بنایا تھا۔ میں نے کہا کہ آپ صرف تجویز کو منظور کر دیں۔ میں آپ لوگوں سے اس کے لئے کوئی رقم نہیں مانگوں گا۔ آپ لوگوں پر کسی قسم کا مالیاتی بوجھ ڈالے بغیر انشا اللہ میں اس کو حاصل کر لوں گا۔ اور اس تجویز کو زیرِ عمل لاؤں گا۔ مگر لوگ بدستور اس تجویز کے مخالف بنے رہے۔ یہ میری زندگی کا پہلا واقعہ تھا جب مجھے احساس ہوا کہ میرے جیسے آدمی کے لئے جمہوری ڈھانچہ میں کام کرنا سخت مشکل ہے۔ اس کے بعد مزید کئی تجربے ہوئے۔ شعبہ تصنیف جماعت اسلامی ہند، رام پور، مجلس تحقیقات و نشریاتِ اسلام لکھنؤ، الجمعیتہ ویکی دہلی سے تعلق کے دوران یہ رائے مزید پختہ ہو گئی اور مجھ پر آخری طور پر یہ بات واضح ہو گئی کہ کوئی زندہ آدمی جمہوری ڈھانچہ میں رہ کر دیانت و دارانہ طور پر کام نہیں کر سکتا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page