Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 119

By Maulana Wahiduddin Khan

اسی تجربہ کا یہ نتیجہ تھا کہ جب بھوپال میں اسلامی مرکز کا پہلا اجتماع (اپریل ۱۹۸۲) ہوا اور وہاں ڈاکٹر محسن عثمانی نے اسلامی مرکز کو جمہوری انداز میں تشکیل دینے کی تجویز پیش کی تو اگر چہ اس وقت میں اسپتال سے اٹھ کر گیا تھا اور الیکٹرک برن کی وجہ سے گویا میں قبر کے کنارے کھڑا ہوا تھا، میں نے کہا کہ اسلامی مرکز کو جمہوری انداز میں نہیں چلایا جا سکتا۔ اسلامی مرکز کا نظام تبلیغی جماعت کے انداز پر ہوگا جو تمام تر شخصی اعتماد کی بنیاد پر چلائی جارہی ہے۔ جو لوگ جمہوریت چاہتے ہوں، انہیں اپنے بارہ میں خود فیصلہ کرنا چاہئے نہ یہ کہ وہ ہم سے جمہوری طریقہ اختیار کرنے کا مطالبہ کریں۔ ۱۳ جولائی ۱۹۸۳ ایک مغربی مفکر کا قول ہے کہ کسی زنجیر کی مضبوطی اس کی کمزور ترین کڑی کے ذریعہ جانی جاتی ہے : The strength of the chain is tested through its weakest link. کسی زنجیر کی تمام کڑیاں مضبوط ہوں، اس کی صرف ایک کڑی کمزور ہو تو زنجیر وہیں سے ٹوٹ جائے گی۔ اور پھر اس کا وہی انجام ہوگا جو تمام کڑیوں کی کمزوری کی صورت میں ہوتا۔ اس مثال پر اجتماعی اقدام کے معاملہ کو سمجھا جا سکتا ہے۔ اجتماعی اقدام میں جماعت کے تمام افراد کو دیکھنا ضروری ہے۔ کیونکہ ایک شخص بھی اگر کمزوری دکھائے تو اس کے نتیجہ میں پوری جماعت برباد ہو کر رہ جاتی ہے۔ ۱۵ جولائی ۱۹۸۳ جمعہ کی نماز پڑھ کر میں واپس ہورہا تھا۔ مسجد کے صحن میں پہنچا تھا کہ ایک لڑکے نے روک کر پوچھا: "جمعہ کی نماز چودہ رکعت ہوتی ہے۔ میں نے سوچا کہ موجودہ زمانہ میں "مسائل" والی شریعت کا آنا غلبہ ہوا ہے کہ لوگ رکعتوں کی تعداد پوری کرنے کو نماز سمجھتے ہیں۔ حالاں کہ نماز میں اصل چیز یادِ خداوندی ہے نہ کہ رکعتوں کی تعداد۔ بخاری ومسلم میں حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر میں اپنی امت کے لئے مشقت نہ سمجھتا تو ان کے لئے فرض قرار دے دیتا کہ وہ ہر نماز کے وقت مسواک کیا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page