ڈائری
Urdu book, p. 12
By Maulana Wahiduddin Khan
ٹکڑا ان کا مطلوب بن گیا۔ ۱۹۳۰ میں اقبال نے مسلم لیگ کے اجلاس (الہ آباد) کی صدارت کی تھی۔ اس موقع پر خطبہ پڑھتے ہوئے انھوں نے کہا تھا کہ مسلمانوں کی تاریخ سے میں نے یہ سبق حاصل کیا ہے کہ ان کی تاریخ کے نازک موقع پر یہ اسلام تھا جس نے مسلمانوں کو بچایا نہ کہ مسلمانوں نے اسلام کو بچایا۔ مگر اسی خطبہ میں انھوں نے علیحدہ مسلم اسٹیٹ یا سلم ہوم لینڈ کی تجویز بھی پیش کی جس نے بعد کو پاکستان کی شکل میں ایک متین صورت اختیار کی۔ کیسا عجیب تھا اقبال کا یہ خطبہ صدارت۔ زبان سے تو انھوں نے یہ کہا کہ اسلام مسلمانوں کو بچاتا ہے۔ اور پروگرام یہ پیش کیا کہ مسلمانوں کے ذریعہ اسلام کو بچاؤ۔ یہی وہ چیز ہے جس کو قرآن میں الم ترانہم فی کل واد یہیمون کہا گیا ہے۔ ۱۷ جنوری ۱۹۸۳ بائبل میں ایک اسرائیلی پینیر نے بنی اسرائیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: "خدا وند آسمان کو جو اس کا اچھا خزانہ ہے تیرے لئے کھول دے گا کہ تیرے ملک میں وقت پر مینہ برسائے اور وہ تیرے سب کاموں میں جن میں تو ہاتھ لگائے برکت دے گا اور تو بہت سی قوموں کو قرض دے گا بہ برخود قرض نہیں لے گا۔" استثناه ۲۸ : ۱۳ بائبل کی اس آیت میں قرض سے مراد معاشی قرض نہیں ہے بلکہ فکری قرض ہے۔ بالفاظ دیگر اس کا مطلب یہ ہے کہ تم کو فکری قیادت (Intellectual leadership) حاصل ہوگی۔ تم لوگوں سے متاثر نہیں ہو گے بلکہ لوگ تم سے اثر قبول کریں گے۔ تم دوسروں کی تقلید نہیں کرو گے بلکہ دوسرے لوگ تمہارا مقدر بنے میں فخر محسوس کریں گے۔ فکری اعتبار سے تم اوپر ہو گے اور دوسرے لوگ نیچے ۔ ۱۸ جنوری ۱۹۸۳ قرآنی میں ارشاد ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہترین صورت میں پیدا کیا ہے۔ اسی طرح اس نے تمام چیزوں کو بہترین صورت دی ہے۔ کتنا با عظمت ہے بہترین تخلیق کرنے والا۔ یہ بات بظاہر ایک بیان ہے، مگر در حقیقت وہ زبر دست دلیل ہے۔ مثلاً انسان جس نمونہ پر پیدا کیا گیا ہے، اس سے بہتر نمونہ انسان کے تصور میں نہیں آتا۔ دنیا میں بے شمار ماہر آرٹسٹ اور سنگتراش

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader