Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 120

By Maulana Wahiduddin Khan

کریں و لولا ان أشق علی امتي لامرتہم بالسواک مع کل صلوة، ایک اور روایت حضرت عائشہ سے نسائی نے نقل کیا ہے کہ مسواک کرنا منہ کے لئے صفائی ہے اور رب کو راضی کرنا ہے (السواک مُطَهَّرَةٌ للفم ، مرضَاةً للرب) ، یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسلام نے دنیا اور آخرت دونوں کو ایک دوسرے سے جوڑ دیا ہے۔ آدمی جب مسواک کرتا ہے تو اس سے اس کے منہ اور دانت کی صفائی ہوتی ہے۔ وہ دانت کی بیماریوں سے بچ جاتا ہے۔ اسی کے ساتھ اس کی مومنانہ نفسیات کی بنا پڑایا ہوتا ہے کہ جب وہ مسواک سے اپنا دانت صاف کر رہا ہوتا ہے تو طرح طرح سے اس کو اللہ کے انعامات اور اس کی حکمتوں کی یاد آتی رہتی ہے۔ یہ چیز اس کے مسواک کے عمل کو رضا الہی کا ذریعہ بنا دیتی ہے۔ ۱۷ جولائی ۱۹۸۳ موجودہ مسلمانوں کے بارہ میں میرا تجربہ یہ ہے کہ وہ ایک زوال یافتہ قوم ہیں۔ ان سے ایک شخص کو " موت " کا تجربہ ہوتا ہے ، مگر ان سے " زندگی " کا تجربہ نہیں ہوتا۔ موجودہ مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ اگر انھیں کسی کے خلاف جھوٹا الزام لگانا ہو تو ان کو اتنے زیادہ الفاظ مل جائیں گے جیسے وہ لغتوں کے بادشاہ ہیں۔ مگر جب ان کی بات کو دلیل سے غلط ثابت کر دیا جائے اور وہ وقت آجائے جب کہ انھیں کھلے طور پر اپنی غلطی کا اعتراف کر لینا چاہئے تو وہ ایسے ہو جائیں گے جیسے کہ ان کے پاس الفاظ ہی نہیں ، جیسے کہ وہ اچانک گونگے ہوگئے ہیں اور اسی کے ساتھ بہرے بھی۔ ۱۸ جولائی ۱۹۸۳ عربی کا ایک مثل ہے کہ الغنم بالغُرْم (غینیمت تاوان پر ہے)، یعنی اس دنیا میں پہلے نقصان اٹھانا پڑتا ہے ، پھر فائدہ ملتا ہے۔ حتی کہ اس میں بالکل برابری کا اصول ہے۔ کوئی شخص جتنا نقصان اٹھائے گا ، اسی کے بقدر اس کے لئے فائدہ کا استحقاق پیدا ہوگا ۔ قدیم انسان کو دو ہزار سال پہلے زندگی کے تجربات نے زندگی کی یہ حقیقت بتا دی تھی۔ مگر موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ نہ دوسروں کی تاریخ انھیں یہ بات بتانے والی ثابت ہوئی اور نہ خود اپنے حالات سے وہ اس کو جان سکے ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page