Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 121

By Maulana Wahiduddin Khan

حدیث میں آیا ہے کہ اگر قیامت برپا ہو جائے اور تم میں سے کسی شخص کے ہاتھ میں ایک پودا ہو تو چاہئے کہ وہ زمین میں اس پودے کو لگا دے ( اِنْ قَامَتِ الْقِيَامَةُ وَبِيَدِ أَحَدِكُمْ فَسِيْلَةٌ فَلْيَغْرِسْهَا) اس حدیث کو اگر کوئی شخص بالکل لفظی مفہوم میں لے لے تو حدیث اس کے لئے بے معنی ہو جائے گی۔ کیونکہ وہ اس کو قیامت سے متعلق سمجھے گا۔ اور قیامت کا معاملہ یہ ہے کہ جب وہ آئے گی تو کسی کو یہ ہوش ہی نہیں رہے گا کہ وہ زمین میں گڑھا کھودے اور وہاں ایک پودا لگائے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس حدیث میں اِن قامت القیامۃ کا لفظ تاکید کے لئے ہے۔ اس میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ تم دوسروں کے لئے نفع بخش بنو، حتیٰ کہ تمہارے پاس اگر زندگی کا آخری لمحہ ہو تو اس وقت بھی یہ کوشش کرو کہ تم ایک ایسا "درخت" لگا دو جو تمہارے بعد لوگوں کو پھل اور سایہ دیتا رہے۔ ۲۰ جولائی ۱۹۸۳ اسلام کی ابتدائی تاریخ میں سنہ ۹ھ کو عام الوفود (وفود کا سال) کہا جاتا ہے۔ رمضان سنہ ۸ھ میں مکہ فتح ہوا تھا۔ اس کے بعد سنہ ۹ھ میں عرب قبائل کے وفود کثرت سے اسلام قبول کرنے کے لئے مدینہ آئے۔ اس بنا پر اس سال کو عام الوفود کہا جانے لگا۔ ابن سعد کے بیان کے مطابق ان وفود کی تعداد ۷۲ تھی۔ فتح مکہ کے بعد عرب کے قبیلے کیوں اتنی کثرت سے اسلام میں داخل ہو گئے، اس کی وجہ عمرو بن سلمہ کی ایک روایت میں ان الفاظ میں ملتی ہے: كانت العرب تلوم باسلامهم الفتح عرب فتح کے انتظار کی بنا پر اپنے اسلام میں دیر فيقولون اتركوه وقومه فانه ان ظهر کر رہے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ محمد کو اور ان کی قوم کو عليهم فهو نبي صادق فلما كانت وقعة الفتح چھوڑ دو۔ اگر محمد ان پر غلبہ حاصل کر لیں تو وہ سچے پیغمبر بادر كل قوم باسلامهم وبادر قومي ہیں۔ چنانچہ جب مکہ فتح ہو گیا تو ہر قبیلہ اسلام قبول باسلامهم کرنے کے لئے دوڑ پڑا، اور میرا قبیلہ بھی تیزی (بخاری، کتاب المغازی) سے اسلام میں داخل ہو گیا۔ یہ عرب کے مشرک قبائل کا حال تھا۔ مگر اسی ملک میں یہودی قبائل تھے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page