Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 122

By Maulana Wahiduddin Khan

کی فتح کو دیکھنے کے باوجود آپ کی رسالت پر ایمان لانے کے لئے تیار نہیں ہوئے۔ ایک طرف عرب قبائل فتح کو دیکھ کر آپ پر ایمان لانے کے لئے دوڑ رہے تھے ، دوسری طرف اسی ملک کے یہودی اور منافقین یہ یہ سازش کر رہے تھے کہ آپ کی فتح کو بے قیمت کرکے دوبارہ آپ کو شکست اور ناکامی سے دوچار کردیں۔ یہ جاندار اور بے جان انسان کا فرق ہے۔ جاندار انسان بھی حق کی مخالفت کرتا ہے اور بے جان انسان بھی۔ مگر دونوں میں فرق یہ ہے کہ جاندار انسان کی مخالفت کی حد آ جاتی ہے مگر بے جان انسان کی کبھی حد نہیں آتی۔ امر حق کتنا ہی زیادہ واضح ہو جائے ، بے جان انسان اپنی مخالفت پر بدستور قائم رہتا ہے اس کی مخالفت اور اس کے عناد کو موت کے فرشتہ کے سوا کوئی اور ختم کرنے پر قادر نہیں۔ ۲۱ جولائی ۱۹۸۳ لوئی فشر نے لکھا ہے کہ انتہا پسند ہندو (مدن لال، گوڈسے) اور ان کے ساتھی جنہوں نے مہاتما گاندھی کو قتل کیا ، وہ امید رکھتے تھے کہ گاندھی کی موت ہندوستان کے دوبارہ تشدد دانہ اتحاد کی طرف پہلا قدم ہوسکتی ہے۔ انھوں نے چاہا تھا کہ ان کو راستہ سے ہٹا کر مسلمانوں کو بے یار و مددگار بنا دیں۔ مگر وہ اس بات کو سمجھ نہ سکے کہ گاندھی کا قتل الٹا نتیجہ برآمد کرے گا ، کیوں کہ اس سے ٹھیک پر یہ ظاہر ہو جائے گا کہ انتہا پسند اینٹی مسلم کس قدر زیادہ خطر ناک اور قابو سے باہر لوگ ہیں، انتہا پسندانہ اقدام ہمیشہ الٹا نتیجہ پیدا کرتا ہے ، اور اس الٹے نتیجہ کے شکار سب سے زیادہ وہی لوگ ہوتے ہیں جنھوں نے چھوٹی خوش فہمیوں کے تحت اپنا انتہا پسندانہ اقدام کیا تھا۔ اقبال کا ایک مشہور شعر ہے جس کو اکثر مسلمان افسانو کا ابر دہراتے ہیں۔ اس میں مرد مومن کی پہچان یہ بتائی گئی ہے کہ جب اس کی موت کا وقت آتا ہے تو اس کے چہرے پر مسکراہٹ کھیلنے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page