ڈائری
Urdu book, p. 123
By Maulana Wahiduddin Khan
لگتی ہے : نشان مرد مومن با تو گویم ۔ چوں مرگ آید تبسم بر لب اوست یہ بلاشبہ ایک شاعرانہ تخیل ہے، اس کا ایمان و اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ مرد مومن کا حقیقی نمونہ پیغمبر اور اصحاب پیغمبر تھے۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا اور کسی پیغمبر کے بارہ میں یہ ثابت نہیں کہ ان کی موت کا لمحہ آیا تو وہ ہنسنے لگے۔ اسی طرح اصحاب کرام میں سے کسی کے بارہ میں اس قسم کی روایت مستند کتابوں میں موجود نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ موت کا لمحہ مومن کے لئے فکر مندی کا لمحہ ہے نہ کہ ہنسی اور مسکراہٹ کا لمحہ۔ موجودہ مسلمانوں کا ذہن بگاڑنے میں سب سے زیادہ جن لوگوں کا دخل ہے وہ شاعر اور خطیب اور انشا پرداز قسم کے "مفکرین" ہیں جو موجودہ زمانہ میں کثرت سے پیدا ہوئے۔ ان لوگوں کے کرنے کا اصل کام یہ تھا کہ وہ قرآن و سنت کے مطابق مسلمانوں کی ذہنی تعمیر کریں، مگر انھوں نے نہایت "مخلصانہ" طور پر صرف مسلمانوں کی ذہنی تخریب کا کام انجام دیا۔ ۲۳ جولائی ۱۹۸۸ حضرت ابو بکر صدیق جب خلیفہ منتخب ہوئے تو انہوں نے مدینہ کی مسجد میں لوگوں کو جمع کر کے خطبہ دیا ۔ اس خطبہ میں آپ نے حمد و ثنا کے بعد فرمایا : ایہا الناس قد ولیت علیکم ولست بخيركم اے لوگو، میں تمہارے اوپر حاکم بنایا گیا ہوں ۔ مگر فان احسنت فا عینونی وان اسأت فقومونی میں تم سے بہتر نہیں ہوں۔ اگر میں اچھا عمل کروں والضعيف فيكم قوي عندي حتى آخذلہ تو تم میری مدد کرو اور اگر میں برا عمل کروں تو تم حقه والقوى ضعيف عندي حتى آخذ مجھے سیدھا کردو۔ اور تمہارا کمزور میرے نزدیک لہ الحق ( الکامل لابن الاثیر ) طاقت ور ہے یہاں تک کہ میں اس کا حق اسے دلا دوں۔ اور تمہارا طاقت ور میرے نزدیک کمزور ہے یہاں تک کہ میں اس سے حق لے لوں۔ حاکم کو کیسا ہونا چاہئے، اس کی تشریح اس سے بہتر الفاظ میں نہیں کی جاسکتی۔ حقیقت یہ ہے کہ اسی قسم کے افراد کا نام ” اسلامی حکومت “ ہے۔ اگر اس قسم کے افراد نہ ہوں تو اسلامی حکومت کے قیام

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader