ڈائری
Urdu book, p. 124
By Maulana Wahiduddin Khan
کا کوئی سوال نہیں۔ ابن تیمیہ نے اپنی کتاب منہاج السنۃ (جلد اول، صفحہ ۴۴) میں لکھا ہے کہ صوفیاء و مشائخ کی اکثریت کہتی ہے کہ ولی محفوظ ہوتا ہے اور نہ پیغمبر معصوم ہوتا ہے۔ ان میں سے بہت سے لوگ اگر چہ زبان سے ایسا نہیں کہتے مگر ان کی حالت عملاً انھیں لوگوں جیسی ہے جن کا خیال ہے کہ شیخ یا ولی نہ غلطی کرتے اور نہ گناہ کرتے ، و الغالبية في المشائخ قد يقولون ان الولى محفوظ والنبي معصوم وكثير منهم ان لم يقل ذالك بلسانه فحاله حال من يرى ان الشيخ او الولى لا يخطى ولا يذنب) دوسرا گروہ جس کا ذکر ابن تیمیہ نے کیا ہے، وہ پہلے گروہ سے بھی زیادہ وسیع ہے۔ کم از کم موجودہ زمانہ میں تو یہ حال ہے کہ ۹۹ فی صد سے بھی زیادہ لوگ اسی گروہ میں شامل ہیں۔ اور اس کی پہچان یہ ہے کہ ان میں سے کسی کے خلاف اگر تنقید کر دی جائے تو تنقید خواہ کتنی ہی زیادہ علی کیوں نہ ہو ، زیر تنقید بزرگ اور ان کے مقلدین کا پورا حلقہ ناقد کا ازلی دشمن بن جائے گا۔ میرا اپنا تجربہ ان لوگوں کے بارہ میں یہی ہے۔ میں نے جب بھی ان بزرگوں میں سے کسی بزرگ پر تنقید کی تو کبھی ایسا نہیں ہوا کہ میری تنقید کو خالص دلائل کے اعتبار سے دیکھا جائے ۔ ہمیشہ اس کو اس نظر سے دیکھا گیا ہے کہ اس میں ہمارے ”بڑوں“ پر تنقید ہے۔ موجودہ زمانہ میں کسی شخص کا سب سے بڑا جرم مسلمانوں کی نظر میں یہ ہے کہ وہ ان کے بڑوں پر تنقید کر دے۔ یہ لوگ زبان سے اپنے بڑوں کو محفوظ یا معصوم نہیں کہتے ۔ مگر ان کا عمل یہی بتاتا ہے کہ وہ ان کو محفوظ اور معصوم قرار دئے ہوئے ہیں۔ ۲۵ جولائی ۱۹۸۳ محمد بن سعید بوصیری (۶۱۰ - ۶۰۸) مصر کے ایک صوفی بزرگ تھے۔ ان کے عربی اشعار کا دیوان چھپا ہے جو پورا کا پورا نعتیہ کلام پر مشتمل ہے۔ ان کی ایک نعتیہ نظم "قصیدہ بردہ" کو اتنی شہرت حاصل ہوئی کہ مختلف زبانوں میں اس کے ترجمے کئے گئے اور ۲۰ سے زیادہ اس کی شرحیں لکھی گئیں۔ قصیدہ بردہ کے بارہ میں بہت سی طلسماتی کہانیاں مشہور ہیں جنھوں نے اس کی مقبولیت میں مدد دی ہے۔ بہت سے لوگ اس کو ورد کے طور پر پڑھتے ہیں اور برکت کے لئے اپنے ساتھ رکھتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader