Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 125

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کی مقبولیت کے باعث بہت سے لوگوں نے قصیدہ بردہ کے انداز میں قصیدے لکھے اور بہت سے لوگوں نے اس کی تضمین کی۔ محمد مصری نے "تسیع" کے انداز میں ایک نظم لکھی ہے تسیع کا مطلب ہے پانچ مصرعے بڑھا کر ہر بند کو سات مصرعے کا بند بنانا ، اس کا ایک شعر یہ ہے : محمد حباء بالات والحكم مبشراً ونذيراً بالجملة الامم محمد نشانیاں اور حکمتیں لے کر آئے ، خوش خبری دینے والے اور تمام قوموں کو ڈرانے والے۔ اس شعر میں جو بات کہی گئی ہے وہ نہایت صحیح ہے۔ اس کے باوجود موجودہ زمانہ کے مسلمان انشار وتبشیر کے دعوتی عمل سے اتنا دور ہیں کہ ان کے اکابر تک اس کی اہمیت سے واقف نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مذکورہ قسم کی بات کو مسلمان محض بطور رمز کہتے ہیں۔ اور جو بات بطور فخر کہی جائے ، اس سے لوگوں کو فخر کی غذا تو مل سکتی ہے ، مگر اس سے ان کے اندر عمل کی تحریک نہیں ہوسکتی۔ ۲۶ جولائی ۱۹۸۳ برٹرینڈ رسل (Bertrand Russell) نے کہا ہے کہ خوشی کو پانے کی ناگزیر شرط یہ ہے کہ آپ جو کچھ چاہتے ہیں ، ان میں سے کچھ چیزوں کے بغیر آپ رہنے پر راضی ہو جائیں : To be without some of the things you want is an indispensable part of happiness. یہ وہی بات ہے جس کو مذہب میں قناعت کہا گیا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ اس دنیا میں خوشی اور ذہنی سکون کو پانے کا واحد راز یہ ہے کہ آدمی پائی ہوئی چیز پر راضی ہو جائے اور جو چیز اس کو نہیں ملی ، اس کو فراموشی کے خانہ میں ڈال دے۔ ۲۷ جولائی ۱۹۸۳ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ربِّ تال يتلوا القرآن والقراَن يلعنه بہت سے قرآن کی تلاوت کرنے والے ایسے ہیں کہ وہ قرآن کی تلاوت کرتے ہیں حالاں کہ قرآن ان پر لعنت کر رہا ہوتا ہے ) یہ کون لوگ ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو قرآن کو کتاب تلاوت تو بناتے ہیں مگر وہ اس کو اپنے لئے کتاب ہدایت نہیں بناتے۔ جو دوسروں کو زیر کرنے کے لئے تو قرآنی آیتوں کے حوالے دیتے ہیں مگر خود

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page