Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 127

By Maulana Wahiduddin Khan

دیتے ہوئے غیر حقیقی مسئلہ کو نظر انداز کر دے۔ محمد بن اسحاق تابعی (۱۵۰-۸۵ھ) قدیم ترین سیرت نگار ہیں۔ ان کی اصل کتاب اگرچہ اب موجود نہیں، مگر ابن ہشام کی موجودہ سیرت میں ان کی پوری کتاب شامل ہے۔ ابن اسحاق علم الانساب کے بہت بڑے ماہر تھے۔ وہ امام مالک کے ہم عصر تھے۔ انھوں نے اپنی معلومات کے مطابق، امام مالک کے بارے میں یہ کہہ دیا کہ وہ قبیلہ ذی اصبح کے آزاد کردہ غلاموں میں سے ہیں۔ مگر خود امام مالک اپنے آپ کو حمیر کی شاخ اصبح میں سے خیال کرتے تھے۔ اس اختلاف کی بنا پر دونوں کے درمیان کشیدگی پیدا ہو گئی۔ امام مالک نے جب حدیث کی کتاب موطا تیار کی تو کہا جاتا ہے کہ محمد بن اسحاق نے کہا کہ اس کو میرے پاس لے آؤ، اس کا معالج میں ہوں (ایتونی بہ فانا بیطار)، یہ بات امام مالک تک پہنچی تو وہ سخت برہم ہوئے۔ انھوں نے کہا کہ وہ دجالوں میں سے ایک دجال ہے، یہود سے روایتیں نقل کرتا ہے (هذا دجال من الدجالة يروى عن اليهود)، ابن حبان نے کتاب الثقات میں لکھا ہے کہ محدثین کو محمد بن اسحاق پر یہ اعتراض تھا کہ خیبر، قریظہ، نضیر کی جنگوں کے حالات وہ ان یہودیوں کی اولاد سے لے کر کتاب میں درج کرتے تھے جن کے آباء و اجداد مسلمان ہو گئے تھے۔ اور چونکہ یہ باتیں انھوں نے یہود سے سنی ہوں گی اس لئے ان پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ امام مالک نے ابن اسحاق کی تردید میں جو الفاظ کہے، وہ تنقید سے بھی آگے کے ہیں۔ مگر اتنی سخت تنقید کے باوجود کسی نے اس کو برا نہیں مانا۔ دور اول میں جب مسلمان زندہ تھے تو اس قسم کا اختلاف رائے یا تنقیدیں عام تھیں۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان تنقید کو برداشت نہیں کر پاتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ بالکل مردہ ہو چکے ہیں، ان کے اندر زندگی کی کوئی چیز باقی نہیں۔ ۳۱ جولائی ۱۹۸۳ء کچھ لوگ ملاقات کے لئے آئے تھے۔ میں اپنے کمرہ میں ان سے گفتگو کر رہا تھا۔ درمیان میں کسی ضرورت کے تحت کمرہ سے باہر آیا تو میں نے دیکھا کہ میری لڑکی فریدہ خانم دروازہ کے پیچھے زمین میں بیٹھی گفتگو سن رہی ہے۔ میں نے دیکھا کہ وہ انتہائی دلچسپی کے ساتھ، جھک کر مجھ سے آنے والے اور میں اسے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page