Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 128

By Maulana Wahiduddin Khan

گفتگو کرتا ہوں تو وہ دروازے کے پیچھے بیٹھ کر پوری گفتگو کو انہماک کے ساتھ سنتی ہے۔ میری باتوں کو اتنا زیادہ شوق اور دلچسپی کے ساتھ سننے اور سمجھنے والا میں نے اپنے تمام جاننے والوں میں صرف فریدہ خانم کو پایا ہے۔ اس کو میرے مشن سے انتہائی قلبی تعلق ہے۔ میری باتوں کو بے حد توجہ سے سنتی ہے اور لفظ لفظ کو پکڑنے کی کوشش کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے میرے مشن کو نہایت گہرائی کے ساتھ سمجھا ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اس کو جانچنے کے لئے میں اس سے کوئی سوال کرتا ہوں، بیشتر حالات میں ایسا ہوتا ہے کہ وہ اس سوال کا عین وہی جواب دیتی ہے جو میرے ذہن میں ہوتا ہے۔ مشن سے گہرے تعلق کی بنا پر اس کے اندر یہ فکری ہم آہنگی پیدا ہوگئی ہے۔ یکم اگست ۱۹۸۳ ایک مدرسہ کے جلسہ میں شرکت کا اتفاق ہوا۔ یہاں ایک "عرب" کی تقریر تھی۔ وہ سعودی شیخ کے لباس میں اسٹیج پر آئے اور عربی زبان میں تقریر شروع کی۔ ساتھ ساتھ ایک صاحب ان کی عربی تقریر کا اردو ترجمہ کرتے جا رہے تھے۔ لباس کے اعتبار سے وہ پورے عرب دکھائی دے رہے تھے۔ تاہم ان کا لہجہ عربوں جیسا نظر نہیں آتا تھا۔ تقریر کے بعد وہ ڈائس پر میرے قریب آکر بیٹھ گئے۔ انھوں نے عربی میں گفتگو شروع کی اور اس دوران میری بعض اردو کتابوں کا ذکر کیا۔ میں نے پوچھا کہ یہ کتابیں تو اردو زبان میں ہیں، پھر آپ کیوں کر ان سے واقف ہوئے۔ اب انھوں نے اپنا لکھوٹا (mask) اتار دیا اور صاف اردو میں بولتے ہوئے کہا کہ میں تو ایک ہندوستانی ہوں۔ عرب میں میری تسلیم ہوئی ہے۔ منتظمین جلسہ نے بعض عرب شیوخ کو دعوت نامے بھیجے تھے اور پوسٹروں میں اعلان کر دیا تھا کہ ان کے جلسہ میں عرب کے شیوخ آئیں گے۔ مگر اتفاق سے کوئی شیخ نہ آسکا۔ اب عوام کی بھیڑ کو مطمئن کرنے کے لئے یہ طے کیا گیا کہ میں عربی لباس کے ساتھ اسٹیج پر آؤں اور عربی میں تقریر کروں۔ اور میری تقریر کا اردو میں ترجمہ کر دیا جائے۔ یہ اس مدرسہ کا حال ہے جہاں اتفاق سے عرب شیوخ نہ آسکے۔ مگر جہاں واقعہ عرب شیوخ آتے ہیں وہاں کا حال بھی مزاج کے اعتبار سے مذکورہ مدرسہ سے کچھ مختلف نہیں۔ اصل چیز ہے عرب چہروں کے ذریعہ عوام کی بھیڑ جمع کرنا، اور وہ دونوں جگہ یکساں طور پر موجود ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page