ڈائری
Urdu book, p. 129
By Maulana Wahiduddin Khan
ڈیڑھ سو سال پہلے جب عوام نے لوہے کی پٹری پر ریلوے ٹرین کو دوڑتے ہوئے دیکھا تو اس کا نام انھوں نے لوہے کا گھوڑا (Iron horse) رکھ دیا۔ اسی طرح پچاس پہلے جب دیہات کے لوگوں نے فضا میں ہوائی جہاز کو اڑتے ہوئے دیکھا تو کہا کہ یہ لوہے کی چڑیا (Iron bird) ہے۔ آدمی اپنی معلوم چیز پر غیر معلوم چیز کو قیاس کرتا ہے۔ فرض کیجئے کہ لوگوں کو ٹرین کا اور ہوائی جہاز کا پہلے سے علم ہوتا مگر وہ گھوڑے اور چڑیے سے بے خبر ہوتے۔ اب اگر اچانک انھیں ایک گھوڑا دوڑتا ہوا دکھائی دیتا تو شاید وہ اس کو ”ریل گھوڑا“ کہتے، اور اگر وہ اچانک ایک چڑیا فضا میں اڑتی ہوئی دیکھتے تو وہ اس کو ”جہازی چڑیا“ کہنا پسند کرتے۔ یہی انسان کی اصل کمزوری ہے۔ وہ ہمیشہ اپنی معلومات کے دائرہ میں رائے قائم کرتا ہے۔ اور چوں کہ انسان کی معلومات محدود ہیں، اکثر وہ غلطیوں کا ارکاب کرتا ہے۔ عام حالات میں انسان کو اس کے لئے معذور قرار دیا جا سکتا ہے۔ تاہم جب معاملہ کسی کے خلاف رائے قائم کرنے کا ہو تو اس کو حد درجہ محتاط ہونا چاہئے۔ در زمین ممکن ہے کہ ایک شخص جس نے صرف ایکسپلائٹیشن (Exploitation) کے ذریعہ کامیابی کا تجربہ کیا ہو، وہ دوسرے کو کامیاب ہوتے ہوئے دیکھ کر اس کو بھی ایکسپلائٹر (exploiter) سمجھ لے. حالانکہ عین ممکن ہے کہ اس نے جائز محنت کے ذریعہ کامیابی حاصل کی ہو۔ وہ ایک جاندار چیز کو لوہا سمجھ لے، صرف اس لئے کہ اس کے پاس لوہے کے معیار کے سوا کوئی اور معیار موجود ہی نہ تھا جس پر وہ دوسرے کو قیاس کر سکے۔ ۳ اگست ۱۹۸۳ حضرت عبد اللہ بن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگ سوارژوں کی طرح ہیں، مشکل ہو اسے تم ان سوار ژوں میں سے کوئی ایک اونٹ سواری کے قابل پاسکتے ہو (عن ابن عمر قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : انما الناس كالابل المائة لا تكاد تجد فيها راحلة ، متفق عليه، مشکوة ثالث، ۱۳۷۳) دنیا میں بے شمار اونٹ ہیں۔ مگر صحیح معنوں میں کام کا اونٹ مشکل سے ملتا ہے۔ یہی معاملہ انسانوں کا بھی ہے۔ دنیا میں کروڑوں انسان ہیں۔ مگر ان کا تجربہ کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ حقیقی معنوں میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader