ڈائری
Urdu book, p. 13
By Maulana Wahiduddin Khan
ہوئے ہیں۔ مگر کوئی ماہر ترین اور فہم ترین شخص بھی انسان سے بہتر کوئی اور ماڈل انسان کے لئے سوچ نہ سکا ۔ انسانی فہم کے مطابق انسان کا موجودہ ماڈل آخری ماڈل ہے ، اس سے بہتر کوئی اور انسانی ماڈل ممکن نہیں۔ یہی حال دوسری تمام چیزوں کا ہے۔ شیر جس جسمانی نمونہ پر بنایا گیا ہے وہ اس کا آخری نمونہ ہے ۔ اس سے بہتر نمونہ شیر کے لئے کوئی آرٹسٹ دریافت نہ کر سکا ۔ اسی طرح درخت کا ماڈل آخری ممکن ماڈل ہے ، اس سے بہتر ماڈل کا درخت سوچنے سے انسان عاجز ہے ۔ حتی کہ گھاس جس نمونہ پر بنائی گئی ہے وہ بھی اس کا آخری نمونہ ہے ۔ اس سے بہتر کوئی نمونہ گھاس کے لئے ذہن میں نہیں آتا ۔ چیونٹی ، مچھر ، ہرن ، غرض دنیا کی تمام چیزوں کا یہی حال ہے ۔ اس دنیا کی کسی بھی چھوٹی یا بڑی چیز کا دوسرا ماڈل اختراع کرنا انسان کے بس سے باہر ہے۔ جو شخص دنیا کے اس پہلو پر غور کرے گا وہ پکار اٹھے گا : تبارک اللہ احسن الخالقین ۱۹ جنوری ۱۹۸۳ء موتی رام صراف نے کہا کہ آجکل یہ حال ہے کہ کوئی شخص سڑک پر کھڑا ہو کر خدا کو برا بھلا کہے تو لوگ اس کو پاگل سمجھ کر گزر جائیں گے۔ لیکن اگر کوئی شخص کسی گروہ کے بہمبر یا اس کے بزرگوں کو اسی طرح برا بھلا کہے تو اس گروہ کے لوگ سخت غصہ میں آجاتے ہیں اور فوری فساد پھوٹ پڑتا ہے۔ میں نے کہا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ آجکل کے لوگ انسان پرست ہیں نہ کہ خدا پرست ۔ جس ہستی کو انھوں نے نہ پہچانا اور نہ اس کو معبود بنایا ، اس کو برا بھلا کہنے سے ان کو کیوں غصہ آئے گا۔ البتہ جن انسانوں کو انھوں نے معبود کا مقام دے رکھا ہے ، جب ان کو کوئی شخص برا کہہ دے تو ان کا بھڑک جانا بالکل فطری ہے۔ ۲۰ جنوری ۱۹۸۳ء ایک صاحب نے کہا کہ دین میں اتنا زیادہ اختلاف ہے کہ سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط ۔ میں نے کہا کہ کس قسم کا اختلاف ۔ انھوں نے کہا مثلاً ایک مولوی صاحب کہتے ہیں کہ خدا کے لئے واحد کا صیغہ ہی استعمال کرنا چاہئے ۔ اگر جمع کا صیغہ استعمال کیا تو جہنم میں جانے کا اندیشہ ہے۔ یعنی خدا رزق دیتا ہے ، کہنا چاہئے نہ کہ خدا رزق دیتے ہیں۔ اسی طرح کی عجیب عجیب باتیں ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader