Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 130

By Maulana Wahiduddin Khan

کام کا آدمی کوئی نہیں۔ اگر کسی کو ایک ، دو آدمی کام کے مل جائیں تو یقیناً وہ بہت خوش قسمت ہے۔ قرآن کے مطابق ، کام کا آدمی وہ ہے جس میں دو صفتیں جمع ہوں۔ قوت اور امانت (القصص ۲۶) مگر لوگوں کا حال یہ ہے کہ کسی شخص کے اندر اگر قوت ہے تو امانت نہیں، اور اگر امانت ہے تو قوت نہیں۔ اور اگر بالفرض کسی آدمی کے اندر دونوں صفتیں جمع ہوں تو اس کے اندر سرکش کامزاج پیدا ہوجاتا ہے جو اس کی تمام اعلیٰ صلاحیتوں کو، کم از کم اجتماعی کام کے لئے، بے فائدہ بنا دیتا ہے۔ ۴ اگست ۱۹۸۳ مومن کون ہے اور منافق کون؟ اس سوال کے جواب میں میں نے ایک صاحب سے کہا: ایک ہے زندہ شعور کی سطح پر مسلمان ہونا۔ دوسرا ہے بے حسی کی سطح پر مسلمان ہونا۔ جو شخص زندہ شعور کی سطح پر مسلمان ہو وہ مومن ہے، اور جو شخص بے حسی کی سطح پر مسلمان ہو وہ منافق ہے۔ ۵ اگست ۱۹۸۳ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر جنگ مدافنانہ جنگ تھی۔ آپ کی کوئی جنگ جارحانہ جنگ نہیں۔ حتیٰ کہ بدر میں جب دونوں طرف کی فوجیں آمنے سامنے ایک میدان میں جمع ہو گئیں تب بھی آپ نے اپنے اصحاب کو حکم دیا کہ وہ حملہ کرنے میں پہل نہ کریں۔ وہ اس وقت تک جنگ شروع نہ کریں جب تک فریق ثانی خود جنگ کا آغاز نہ کر دے۔ موجودہ زمانہ میں جنگ کے مختلف پہلوؤں پر زبردست تحقیقات ہوئی ہیں۔ ان تحقیقات سے آپ کی مذکورہ روش کی حربی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ موجودہ زمانہ میں مختلف جنگوں کے تجربات کو جمع کر کے ان کا مطالعہ کیا گیا۔ ان تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ دفاع کرنے والی افواج (Defending forces) کے مقابلہ میں پیش قدمی کرنے والی افواج (Attacking forces) کا جانی نقصان ہمیشہ زیادہ ہوتا ہے۔ یہ رسول اللہ کے طریق جنگ کی عصری تصدیق ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جنگی پالیسی کے دو خاص پہلو تھے۔ (1) دشمن کی سرگرمیوں سے مکمل طور پر باخبر رہتے ہوئے اپنی تیاری جاری رکھنا۔ (۲) عملی طور پر صرف اس وقت لڑنا جب کہ دفاعی طور پر لڑنا بالکل آخری درجہ میں ضروری ہو گیا ہو۔ جنگ آپ کی پالیسی کا صرف اتفاقی جزو ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page