Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 131

By Maulana Wahiduddin Khan

تمام اہل علم مانتے ہیں کہ زمین نارنگی کی طرح گول ہے۔ مگر کسی بھی شخص نے آج تک زمین کی گولائی کو پوری شکل میں نہیں دیکھا۔ جو لوگ راکٹ پر سوار ہو کر خلا میں گئے ، انھوں نے بھی زمین کی صرف آدھی گولائی کو دیکھا۔ زمین کی پوری گولائی کو یک وقت وہ بھی نہ دیکھ سکے۔ اس کی وجہ انسان کی محدودیت ہے۔ انسان اپنی محدودیت کی وجہ سے یک وقت پورا علم حاصل نہیں کر پاتأ۔ یہی معاملہ ہر چیز کے بارہ میں ہے۔ انسان کا بیشتر علم استنباطی ہے نہ کہ حقیقی حسوں میں مشاہداتی۔ جرمنی کا مشہور سائنس داں ہینز برگ (Warner Heisenberg) ۱۹۰۱ میں پیدا ہو ا۔ ۱۹۷۶ء میں اس کی وفات ہوئی۔ ۱۹۳۲ میں اس کو فزکس کا نوبل انعام ملا۔ اس نے تحت ایٹمی مظہر (Sub-atomic phenomenon) یا (Subatomic World) کا مطالعہ کیا۔ اس نے پایا کہ اگر ہم یہ جانیں کہ ایک الیکٹران کدھر جا رہا ہے تو وہ اس وقت ہم یہ نہیں جان سکتے کہ وہ کہاں ہے۔ اور اگر یہ جان لیں کہ وہ کہاں ہے تو ہم یہ نہیں جان سکتے کہ وہ کدھر جا رہا ہے: If we know where an electron is going, we do not know where it is, and if we know where it is, we do not know where it is going. ۷ اگست ۱۹۸۳ امام مالک نے ایک بار لوگوں کے سامنے یہ مسئلہ بیان کہ ایک شخص اگر غلطاً کسی شخص کی ایک انگلی توڑ دے تو اس کے بدلے اس کو دس اونٹ دیت میں دینا ہوگا۔ اور اگر کوئی شخص کسی کی پانچوں انگلیاں توڑ کر بیکار کر دے تو پچاس اونٹ دیت میں دینا ضرور ہی ہوگا۔ سامعین میں سے ایک آدمی نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کی پانچ انگلیوں کی قیمت پچاس اونٹوں کے برابر ہے۔ پھر تو چور رہ کہا تھا، جس میں اس کی پانچوں انگلیاں کاٹ دی جاتی ہیں، اس وقت کاٹنا بھاگنا چاہے، جب کہ چرانے پچاس اونٹ کی مالیت کی چیز چرائی ہو۔ حالاں کہ مسئلہ کے مطابق ، اس کا با تہ صرف چار درہم میں کٹ جاتا ہے۔ امام مالک نے جواب دیا کہ چور نے چوری کا جرم کر کے اپنی انگلیوں کی قیمت گھٹا دی ۔ اس کا ہاتھ جب تک امانت دار تھا وہ قیمتی تھا، اور جب اس کے ہاتھ نے خیانت کا فعل کیا تو وہ حقیر ہو گیا ( اَن اليد لما كانت أمينة كانت ثمينة فما خانت هات)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page