Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 132

By Maulana Wahiduddin Khan

موجودہ مسلمان اس اصول کو مسائل فقہ میں جانتے ہیں، مگر وہ اس اصول کو مسائل حیات میں نہیں جانتے۔ مثال کے طور پر ہندوستان کا ایڈمنسٹریشن مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کرتا ہے تو وہ چلاتے ہیں کہ ہمارے ساتھ برابر کا سلوک کیوں نہیں کیا جاتا۔ مگر مذکورہ اصول کی روشنی میں ایسا ہونا بالکل فطری ہے۔ مسلمانوں نے ۱۹۴۷ سے پہلے اس ملک میں بٹوارہ کی سیاست چلائی۔ انھوں نے کہا کہ ہم تم سے الگ ایک قوم ہیں۔ ہمارا حصہ بانٹ کر ہمیں دے دو۔ اس سیاست کے نتیجہ میں مسلمان اس ملک میں اپنی قیمت کم کر چکے ہیں۔ انھیں اس نادانی کی قیمت اس وقت تک دینی پڑے گی جب تک وہ کوئی ممتاز تعمیری عمل کر کے اپنی سابقہ تصویر کو بدل نہ ڈالیں۔ ۸ اگست ۱۹۸۳ جان اسٹوارت مل (John Stuart Mill) کا قول ہے کہ بہت سی سچائیاں ایسی ہیں جن کی پوری معنویت اس وقت تک سمجھی نہیں جا سکتیں جب تک ذاتی تجربہ سے ان کا دراک نہ ہو جائے : There are many truths of which the full meaning cannot be realised until personal experience has brought it home. اصل یہ ہے کہ بات صد فی صد لفظوں میں بیان نہیں کی جاسکتی۔ لفظوں میں بیان کردہ بات کے ساتھ آدمی کو خود اپنی طرف سے کوشش شامل کرنا پڑتا ہے، اسی وقت وہ اس کو پوری طرح سمجھ پاتا ہے۔ جس آدمی کے پاس اپنی طرف سے شامل کرنے کے لئے نہ ہو، وہ کسی بات کو محض سنے ہوئے الفاظ کے ذریعہ سمجھ نہیں سکتا۔ ۱۹ اگست ۱۹۸۳ قرآن میں دعوت حق کا انکار کرنے والے مجرمین کے بارہ میں ارشاد ہوا ہے کہ قیامت کے دن ان کے بارہ میں کہا جائے گا : انہم كانوا اذا قيل لهم لا اله الا الله يستكبرون ويقولون ائنّا لتاركوا الهتنا لشاعر مجنون (الصافات ۳۵ - ۳۶) یعنی جب ان سے کہا جاتا تھا کہ اللہ کے سوا کوئی الہ نہیں تو وہ تکبر کرتے تھے اور کہتے تھے کہ کیا ہم ایک دیوانے شاعر کے کہنے سے اپنے آلہ کو چھوڑ دیں۔ منکرین حق کا یہ تکبر اللہ کے مقابلہ میں نہیں تھا، بلکہ داعی کے مقابلہ میں تھا۔ اپنے جن آکا بر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page