Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 133

By Maulana Wahiduddin Khan

کے دین پر وہ اپنے آپ کو سمجھتے تھے، وہ اکابر ان کو معاصر دامی کے مقابلہ میں زیادہ عظیم نظر آتے تھے۔ اس لئے انھوں نے داعی کو حقیر سمجھ کر اس کے پیغام کو ماننے سے انکار کر دیا۔ آدمی کی نگاہ اگر نہ ملنے والی چیز پر لٹکی ہوئی ہو تو وہ ملنے والی چیز کو دیکھنے میں بھی ناکام رہے گا۔ نہ ملنے والی چیز کے پیچھے دوڑنے میں وہ اس چیز کو بھی کھو دے گا جو اس کو یقینی طور پر مل رہی تھی یا مل سکتی تھی۔ ۱۱ اگست ۱۹۸۳ء ہر آدمی اپنی ذات میں ایک "انسان" کا تجربہ کرتا ہے۔ یہی تجربہ خدا کے وجود پر یقین کرنے کے لئے کافی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان خدا کا آئینہ ہے۔ فرق یہ ہے کہ انسان کی ہستی محدود ہے اور خدا کی ہستی لامحدود۔ انسان کیا ہے۔ انسان ایک صاحب ذہن مخلوق ہے۔ ذہن ہی کا دوسرا نام انسان ہے۔ یہ در اصل ذہن ہے جو انسان کی طاقت کا سر چشمہ ہے۔ انسان کا ذہن محدود ہے ، اس لئے اس کی طاقت بھی محدود ہے ، اگر فرہین لامحدود ہو جائے تو طاقت بھی لامحدود ہو جائے گی۔ ہم اپنے تجربہ کی بنا پر مجبور ہیں کہ "محدود ذہن " کو مانیں۔ اور محدود ذہن کو ماننے ہی دوبارہ ہم مجبور ہو جاتے ہیں کہ " لا محدود ذہن کے وجود کو تسلیم کریں۔ جزو کو ماننے کے بعد کل کو نہ ماننے کے لئے کوئی منطقی بنیاد باقی نہیں رہتی۔ ایک آرٹسٹ کے آرٹ کو دیکھ کر یہ خیالات ذہن میں آئے۔ ۱۲ اگست ۱۹۸۳ء حدیث میں آیا ہے : من قرأ القرآن فاعر به كان له بكل حرف عشرون حسنة - ومن قرأ القرآن بغیر اعراب كان له بكل حرف عشر حسنات۔ جو شخص قرآن کو اس کے اعراب کے ساتھ پڑھے تو اس کے لئے ہر حرف کے بدلے بیس نیکی ہوگی ۔ اور جو شخص قرآن کو اعراب کے بغیر پڑھے تو اس کے لئے ہر حرف کے بدلے دس نیکی ہوگی۔ ایک شخص جو عربی سے اور حدیث کی زبان سے بخوبی آشنا نہ ہو وہ حدیث میں اعراب کا مطلب معروف زبر زیر پیش لےلے گا۔ اور اس کے مطابق حدیث کے معنی بیان کرے گا ۔ حالانکہ اعراب سے یہاں زبر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page