Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 134

By Maulana Wahiduddin Khan

زیرِ زبر نہیں مراد ہیں۔ زبر زیر پیش کا طریقہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں موجود ہی نہ تھا۔ سیوطی نے الاتقان فی علوم القرآن میں لکھا ہے کہ قرآن کے اعراب سے مراد اس کے الفاظ کے معانی کی معرفت ہے اس سے نحوی اصطلاح والا اعراب مراد نہیں والمراد بأعرابه معرفة معاني الفاظہ ولیس المراد بہ الاعراب المصطلح عليه عند النحاة) اسی طرح ایک اور حدیث ہے جس کے الفاظ یہ ہیں : ( اعربوا القرآن والتمسوا غرائبہ (قرآن کو سمجھ کر پڑھو اور اس کے مشکل الفاظ کی کھوج کرو) ۱۳ اگست ۱۹۸۳ قرآن میں جنت کی تعبیر کے لئے بار بار در لفظ آتے ہیں : لا خوف عليهم ولا هم يحزنون (اہل جنت کو وہاں نہ خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے) دنیا کی زندگی میں دو قسم کی نا خوشگواریاں آدمی کی زندگی کو بے لطف بنا دیتی ہیں ۔ ایک خارجی اور دوسرے داخلی خارجی سے مراد وہ مسائل و مصائب ہیں جو دوسروں کی طرف سے سامنے آتے ہیں۔ اور داخلی سے مراد یہ ہے کہ آدمی اپنے عجز اور اپنی محدودیت کی وجہ سے بار بار دل شکستگی اور غم گینی کی کیفیت سے دوچار ہوتا ہے ۔ جنت میں یہ دونوں چیزیں ختم ہو جائیں گی۔ دنیا میں امتحان کی بنا پر اچھے لوگوں کے ساتھ برے لوگ بھی شامل ہیں۔ یہاں ہر ایک کو پوری آزادی حاصل ہے ۔ جنت کی دنیا میں تمام برے لوگ دور پھینک دئے جائیں گے ۔ جنت کا ماحول صرف اچھے لوگوں کا ماحول ہوگا ۔ دوسری طرف انسان کے عجز اور محدودیت کا خاتمہ ہو چکا ہوگا، اس لئے اس کا امکان بھی ختم ہو جائے گا کہ آدمی اپنی کیوں اور کوتاہیوں کی بنا پر غم دانده میں مبتلا ہو ۔ اخرج ابن ابی داؤد عن مسلم بن مخراق قال قلت لعائشة ان رجلا لا يقرأ احدم القرآن في ليلة مرة اومرتين اوثلثا، فقالت قرأ را ولم يقرأ و اكنت اقاوم

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page