ڈائری
Urdu book, p. 135
By Maulana Wahiduddin Khan
طرح پڑھتے ہیں کہ وہ اس کو ایک بات میں ایک بار یا دو بار یا تین بار ختم کرتے ہیں۔ حضرت عائشہ نے جواب دیا کہ انہوں نے پڑھا مگر انہوں نے نہیں پڑھا۔ میں رسول اللہ صلی اللہ کے ساتھ رات کو کھڑی ہوتی تھی تو آپ سورہ بقرہ اور آل عمران اور نساء پڑھتے تھے ، آپ جب بھی کسی آیت سے گزرتے جس میں بشارت ہو تو آپ دعا فرماتے اور اس میں رغبت ظاہر فرماتے ۔ اسی طرح آپ جب بھی کسی آیت سے گزرتے جس میں ڈراوا ہو تو آپ دعا فرماتے اور اس سے پناہ مانگتے۔ ۱۵ اگست ۱۹۸۳ انسان کے بارہ میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایک توجیہہ طلب حیوان ہے : Man is an explanation seeking animal یہ انسان کی سب سے بڑی خوبی ہے ، اور یہی انسان کی سب سے بڑی کمزوری بھی کسی معاملہ کے بارہ میں انسان اس وقت مطمئن ہو جاتا ہے جب کہ وہ اس کی توجیہہ پالے۔ اب اگر آدمی معاملہ کی صحیح توجیہہ پالے تو اس کا مطمئن ہونا صحیح بنیاد پر ہو گا۔ اور اگر اتفاق سے اس کو غلط توجیہہ مل جائے تو وہ اسی غلط توجیہہ پر مطمئن ہو جائے گا۔ اور غلط توجیہہ پر مطمئن ہونا اس کو جہاں پہنچائے گا وہ بربادی کے سوا اور کچھ نہیں۔ ۱۶ اگست ۱۹۸۳ ہجرت سے پہلے مدینہ کے لوگوں سے آپ کی ملاقات حج کے موسم میں ہوتی تھی۔ نبوت کے گیارھویں سال آپ قبائل عرب میں تبلیغ کے لئے لئی گئے۔ وہاں عقبہ کے قریب آپ کی ملاقات قبیلہ خزرج کے کچھ لوگوں سے ہوئی ۔ یہ تقریباً آکا افراد تھے ۔ انھوں نے اسلام قبول کرایا۔ اس کے بعد آپ نے ان سے کہا کہ اگر میں مدینہ آ جاؤں تو کیا تم لوگ میری حمایت کرو گے۔ ابن سعد کی روایت کے مطابق انھوں نے جواب دیا : نحن مجتهدون لله ولرسوله ۔ نحن فاعلم اعداء متباغضون وانما كانت وقعة بعاث عام الاول ، يوم من ايامنا ، ا قتلنا فيه . فان تقدم ونحن كذا الا يكون لنا اجتماع . فدعنا حتى نرجع الى عشائرنا. لعل الله يصلح ذات بيننا. وموعدك الموسم العام المقبل۔ ہم اللہ اور اس کے رسول کے لئے پوری کوشش کریں گے۔ مگر ہم ، آپ جانتے کہ اس وقت آپس کی بعض عداوت میں مبتلا ہیں۔ اور انہی پچھلے سال ہمارے یہاں بعاث کی جنگ ہوئی ہے۔ اگر آپ ایسی حالت میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader