Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 136

By Maulana Wahiduddin Khan

مدینہ آتے ہیں تو ہم آپ پر جمع نہ ہو سکیں گے۔ پس آپ ہمیں اپنے لوگوں کی طرف جانے دیجئے، شاید اللہ ہمارے باہمی معاملہ کو درست کر دے۔ اور آپ سے اگلے سال یہیں ملاقات کا وعدہ ہے۔ ، کے بعد دوسری بار نبوت کے بارہویں سال اور تیسری بار نبوت کے تیرہویں سال آپ کی ملاقات مومنین مدینہ سے ہوئی۔ یہاں تک کہ آپ نے مکہ سے مدینہ کے لئے ہجرت فرمائی۔ مذکورہ روایت میں فان اقمدم ونحن اذ اليكون لنا عليك اجتماع کا جملہ بڑا عجیب ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ اصحاب رسول کتنے زیادہ باشعور لوگ تھے۔ ۱۷ اگست ۱۹۸۳ فوجی معاملات کے ایک مسلم ماہر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے حربی پہلو پر ایک کتاب شائع کی ہے۔ جنگ بدر کے سلسلہ میں وہ لکھتے ہیں کہ "حضور نے ایک سوچے سمجھے منصوبہ کے تحت لڑائی کے لئے بدر کا علاقہ چُنا تھا۔ اس طرح دشمنوں کی پیش قدمی کے لئے رتیلے ٹیلے اور نرم زمین والا علاقہ چھوڑ دیا تھا۔ مقصد یہ تھا کہ دشمن کو نقل و حرکت میں دشواری کا سامنا کرنا پڑے اور چڑھائی پر پیش قدمی کرتے ہوئے وہ صاف نظر آئیں ۔ حضور نے پہاڑوں کو اپنے بازو اور پشت پر رکھا اور پہلی کاری دشمن پر چھوڑزدی۔ اس طرح حضور نے مشہور جنگی اصول (Ground of own choice) یعنی دشمن کو اپنی پسندیدہ زمین پر جنگ کرنے کے لئے مجبور کرنا حکمت کے ساتھ استعمال کیا۔ یہ بات بذات خود صحیح ہے۔ مگر اپنی پسندیدہ زمین پر حریف کو لڑنے کے لئے مجبور کرنے کا اصول صرف جنگ تک محدود نہیں۔ وہ اس سے زیادہ وسیع ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ میں اس اصول کا استعمال صرف جزئی طور پر کیا۔ اس کا زیادہ بڑا استعمال آپ نے دعوت کے میدان میں کیا۔ حدیبیہ کی صلح اس کی مثال ہے جس کو اسلام میں فتح مبین اور فتح عظیم کہا گیا ہے۔ حدیبیہ کی صلح کے ذریعہ یہ ہوا کہ آپ اپنے حریف کو جنگی مقابلہ کے میدان سے نکال کر دعوتی مقابلہ رینکاری ٹکراؤ کے میدان میں لائے۔ اور فکر اور نظریہ کے معاملہ میں چونکہ اسلام واضح طور پر برتر پوزیشن میں تھا، اس لئے فریق ثانی کو یہاں زبردست شکست ہوئی۔ مورخہ دنیا میں ہر آدمی کردہ تجربہ پیش آتا ہے جس کو کھوئے ہوئے مواقع

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page