ڈائری
Urdu book, p. 137
By Maulana Wahiduddin Khan
(Missed opportunities) کہا جاتا ہے۔ یعنی ایک موقع آدمی کے سامنے آتا ہے۔ مستقبل کے اعتبار سے اس میں اس کے لئے زبردست فائدہ ہوتا ہے۔ مگر وہ بروقت اس کی اہمیت کو سمجھ نہیں پاتا۔ بعد کے حالات بتاتے ہیں کہ اس موقع کو استعمال نہ کرنا سخت نادانی تھی۔ اس کو استعمال کرکے اس میں بہت بڑا فائدہ حاصل کر سکتا تھا۔ عام آدمی کے لئے ایسا تجربہ صرف ناکامی کا تجربہ ہوتا ہے۔ مگر مومن کے لئے اس ناکامی میں بھی کامیابی کا ایک پہلو نکل آتا ہے۔ وہ اپنے عجز کا تجربہ کرکے خدا کی قدرت کو دریافت کرتا ہے۔ وہ اس حقیقت کا ادراک کرتا ہے جس کو قرآن میں مختصر طور پر اس طرح کہا گیا ہے : قل لو اعلم الغیب لاستکثرت۔ غیر مومن کے لئے ایسا تجربہ صرف دل شکستگی کا سبب بنتا ہے۔ مگر مومن کو وہ خدا سے قریب کرتا ہے۔ اس طرح وہ اس کے لئے نئی قوت کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ ایسے تجربہ کے بعد وہ پکار اٹھتا ہے کہ خدا یا، میں نے اپنی محدود عقل کی بنا پر جس چیز کو کھودیا، تو اپنی لامحدود قدرت کے ذریعہ مجھے اس چیز کا مالک بنادے۔ شاید یہی مطلب ہے اس حدیث کا جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مومن کا معاملہ عجیب ہے۔ اس کی ہر بات اس کے لئے خیر ہے۔ اور یہ مومن کے سوا کسی اور کو حاصل نہیں۔ اگر اس کو نعمت ملتی ہے تو وہ شکر کرتا ہے اور وہ اس کے لئے خیر کا باعث ہوتا ہے۔ اور اگر اس کو مصیبت پڑتی ہے تو وہ صبر کرتا ہے تو وہ اس کے لئے خیر کا باعث ہوتا ہے (عجباً لامر المومن إن أمره كله خير، وليس ذلك لأحد إلا للمؤمن، إن أصابته سرّاء شكر فكان خيراً له وإن أصابته ضراء صبر فكان خيراً له ، رواہ مسلم) ۱۹ اگست ۱۹۸۳ قرآن کی سورہ نمبر ۷۴ (المدثر) میں یہ منبر اسلام کو انداز اور دعوت کا حکم دیا گیا ہے۔ اس سلسلہ میں جو ضروری ہدایات دی گئی ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ تم ایسا نہ کرو کہ احسان کرکے اس کا بدلہ چاہو (ولا تمن تستكثر) اس ہدایت کو حکم دعوت کے ذیل میں بیان کرنے کی ایک خاص حکمت ہے۔ دعوت کے کام کو مؤثر طور پر انجام دینے کے لئے مدعو کا بے غرض ہونا ضروری ہے۔ دائی اور مدعو کے درمیان اگر طلب اور

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader