Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 14

By Maulana Wahiduddin Khan

میں نے کہا کہ اس کا حل بہت آسان ہے۔ جو شخص آپ سے اس قسم کی بات کہے ، اس سے پوچھیے کہ جو بات تم کہہ رہے ہو، وہ قرآن میں کہاں لکھی ہے۔ اگر وہ قرآن سے اپنی بات کا ثبوت دے تو مانے ورنہ مت مانے۔ پھر میں نے کہا کہ اگر وہ شخص کہے کہ قرآن میں یہ سب بات کہاں ہے۔ تو آپ کہے کہ پھر حدیث سے اس کا ثبوت دو۔ اور اگر وہ کہے کہ حدیث میں یہ سب بات کہاں ہے تو اس سے کہئے کہ جو بات نہ قرآن میں ہواور نہ حدیث میں تو ایسی بات کی ہمیں ضرورت بھی نہیں۔ ۲۱ جنوری ۱۹۸۳ دو اشخاص یا دو قوموں میں جھگڑا ہو تو عام طور پر لوگ یہ کرتے ہیں کہ اپنے کو صحیح اور دوسرے کو غلط ثابت کرنے میں ساری لسانی طاقت خرچ کر دیتے ہیں۔ اس قسم کے عمل کا نتیجہ اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ جھگڑا الٹا نام ہی طور پر باقی رہے۔ کیوں کہ جو آپ کر رہے ہیں، وہی لازمی طور پر دوسرا بھی کرے گا۔ ایسی حالت میں جھگڑا ختم کیسے ہو سکتا ہے۔ اس قسم کے جھگڑوں کو ختم کرنے کی ایک ہی صورت ہے، وہ یہ کہ ایک فریق یک طرفہ طور پر اپنی شکایتوں کو ختم کر دے۔ اس طرح وہ زیادہ بہتر طور پر فریق ثانی کو راضی کر سکتا ہے کہ وہ بھی یہی طریقہ اختیار کرے اور نتیجہ جھگڑا ختم ہو جائے۔ ۲۲ جنوری ۱۹۸۳ ایک روایت. بخاری اور مسلم اور ترمذی اور نسائی نے اپنی کتابوں میں درج کی ہے اور مسند احمد میں بھی وہ آئی ہے۔ بخاری کے الفاظ یہ ہیں: عن ابی بکرۃ رضی اللہ عنه ـ قال لقد نَفَعَنی الله بِكَلِمَةٍ سمعتها من رسول الله صلى الله عليه وسلم ايام الجمل، بعد ماکدتُ أَنْ أَلْحَقَ باصحاب الجمل فَأُقَاتِلَ معهم ـ قال لما بَلَغَ رسول الله صلى الله عليه وسلم انَّ اهل فارسٍ مَلَكُوا بنت کسری قال : لَنْ يُفْلِحَ قَوْمٌ وَلَوْ أَمَرَهُم امرأةٌ حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جنگ جمل کے موقع پر مجھے ایک بات سے فائدہ پہنچا جس کو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا ، جب کہ قریب تھا کہ میں اصحاب جمل سے مل جاؤں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page