ڈائری
Urdu book, p. 139
By Maulana Wahiduddin Khan
انگریزی شاعر چو پاسر (Chaucer) نے کہا تھا کہ چیز خود کچھ نہ ہو، اس سے کچھ بھی برآمد نہیں ہوسکتا : Nothing comes of nothing مٹی لوہے کا کام نہیں کرسکتی۔ ایک مردہ لاش سے وہ چیزیں ظاہر نہیں ہو سکتیں جو زندہ انسان کی خصوصیت ہیں۔ اسی طرح جو قوم تنزل کا شکار ہو چکی ہو، تاریخی عمل کے نتیجہ میں جس کی صلاحیتیں فنا ہو چکی ہوں، ایسی قوم سے ان اعمال اور ان سرگرمیوں کی امید نہیں کی جا سکتی جو صرف ایک تازہ دم گروہ سے توقع ہوتی ہیں۔ ۲۳ اگست ۱۹۸۳ ایک حدیث ہے جس میں یہ الفاظ آئے ہیں کہ بعثت بالحنيفية السمحة یعنی میں فطری اور سہل دین کے ساتھ بھیجا گیا ہوں۔ کوئی شخص صرف اتنا ہی پڑھے تو اس کو حدیث کے سمجھنے میں دقت پیش آسکتی ہے، کیوں کہ اس میں دین کو سہل بتا دیا گیا ہے، جب کہ بہت سے پہلوؤں سے دین پر چلنا کوئی سہل کام نہیں۔ اس سوال کا جواب اس وقت مل جاتا ہے جب کہ پوری حدیث کو دیکھا جائے ۔ پوری حدیث اس طرح ہے: قال صلى الله عليه وسلم: بعثت بالحنيفية رسول الله صلى الله عليه وسلم نے فرمایا۔ میں فطری اور السمحة ولم ابعث بالرهبانية الصعبة سہل دین کے ساتھ بھیجا گیا ہوں۔ میں رہبانیت (المبسوط، جلد ۳، صفحه ۲۸۶) جیسے سخت اعمال کے ساتھ نہیں بھیجا گیا۔ پوری روایت کو دیکھئے تو معلوم ہوگا کہ یہاں اسلام کے سہل ہونے کی جو بات کہی گئی ہے وہ مسیحی رہبانیت کے مقابلہ میں کہی گئی ہے نہ کہ مطلق طور پر ۔ مسیحی رہبانیت میں غیر ضروری جسمانی مشقت کو سعید کمال سمجھ لیا گیا تھا۔ اسلام نے اس قسم کے بے فائدہ تشدد کو ختم کر دیا۔ مشہور امریکی فلم ایکٹرس میرلین مونرو (Marilyn Monroe) نے کہا تھا کہ مجھے دولت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader