Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 140

By Maulana Wahiduddin Khan

سے دلچسپی نہیں۔ مجھے صرف اس سے دلچسپی ہے کہ میں حیرت ناک بن جاؤں: I am not interested in money. I just want to be wonderful. یہی اکثر لیڈروں کا حال ہے۔ ان کے لئے پیسے کی اہمیت نہیں، ان کے نزدیک اہمیت کی بات یہ ہے کہ انہیں عزت اور مقبولیت حاصل ہو۔ وہ لوگوں کی نظر میں غیر معمولی دکھائی دینے لگیں۔ پیسے کے معاملے میں قائد کا استغنا کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ قائد کے استغنا کو جانچنے کا معیار ان یہ ہے کہ وہ عزت اور ناموری حاصل کرنے والے مواقع پر استغنا کا ثبوت دے۔ ۲۵ اگست ۱۹۸۳ فرانس سیلیں (St. Francis De Sales) نے کہا ہے کہ شہد کی مکھیاں انتہائی بیٹھا شہد ٹھی کے پھولوں سے بناتی ہے جو کہ ایک چھوٹا اور نہایت کڑوا پودا ہے: Bees make the sweatest honey from the flowers of the thyme — a small and bitter herb. قرآن میں ہے کہ شہد کی مکھی حکم خداوندی کے تحت کام کرتی ہے (النحل: ۶۸)، اس کا مطلب یہ ہے کہ شہد کی مکھی جو کچھ کرتی ہے وہ عین خدائی منشا کے مطابق ہے۔ وہ گویا خدا کا قائم کردہ ایک نمونہ ہے۔ یہ چیز بتاتی ہے کہ خدا کی مرضی اپنے بندوں سے یہ ہے کہ وہ کڑوی چیزوں سے میٹھا مادہ نکالیں۔ وہ کڑوا پن کو مٹھاس سے بدل دیں۔ اب جو لوگ دوسروں کے کڑواپن پر احتجاج کریں، وہ گویا خود خدا کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ بالفٰذا دیگر، وہ کہہ رہے ہیں کہ ہم خدا کے تخلیقی نظام پر راضی نہیں ہمیں اس کے بجائے دوسری دنیا چاہیے جہاں مٹھاس سے مٹھاس کو نکالنا ہو۔ کڑوا پن سے مٹھاس نکالنے والی دنیا ہمیں منظور نہیں۔ ۲۶ اگست ۱۹۸۳ ایک صاحب نے کہا کہ ہندوستان میں صوفیا کا بہت بڑا کارنامہ ہے۔ انھوں نے اس ملک میں تبلیغی کام کیا۔ انھیں کی تبلیغ سے آج مسلمانوں کی اتنی زیادہ تعداد ہندوستان میں نظر آتی ہے۔ میں نے کہا کہ صوفیا کا اصل کارنامہ یہ نہیں ہے کہ انھوں نے تبلیغی کام کیا۔ ان کا اصل کارنامہ یہ ہے کہ انھوں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page