Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 141

By Maulana Wahiduddin Khan

نے اپنے آپ کو غیر تبلیغی کام سے بچایا۔ صوفیا کے حالات پڑھئے تو کسی بھی صوفی یا بزرگ کے یہاں یہ نہیں ملتا کہ وہ جاکر لوگوں کے یہاں تبلیغ کرتے ہوں یا غیر مسلموں سے یہ کہتے ہوں کہ تم اسلام قبول کرلو، ورنہ تم خدا کے یہاں پکڑے جاؤ گے۔ البتہ وہ اس قسم کے مخالف تبلیغ کام میں مشغول نہیں تھے جس میں دوسرے لوگ مشغول تھے۔ مثلاً مسلم بادشاہوں کا ہندوؤں سے لڑنا۔ مناظرہ علما کا ہندوؤں سے مناظرہ بازی کرنا۔ عام مسلمانوں کا ہندوؤں سے مادی مفادات کے لئے جھگڑا کرنا۔ صوفیا اس قسم کی تمام نزاعی باتوں سے دور رہتے تھے، یہی وجہ ہے کہ ہندوؤں کو ان سے وہ ضد نہ تھی جو دوسرے مسلمانوں سے انھیں تھی۔ چنانچہ وہ ان کے پاس آتے جاتے اور ان سے نصیحت لینے کی کوشش کرتے۔ اہم بات یہ ہے کہ اسلام ایک محفوظ اور تسلیم شدہ مذہب ہے۔ اس لئے وہ اپنے آپ پھیلتا ہے، وہ اپنے آپ لوگوں کے دلوں میں جگہ بنالیتا ہے۔ چنانچہ جب کوئی شخص بطور خود اسلام کی طرف مائل ہوتا اور اسلام میں داخل ہونا چاہتا تو وہ اپنے قریب کے کسی بزرگ کے یہاں آکر ان کے ہاتھ پر کلمہ پڑھ لیتا۔ ۲۶ اگست ۱۹۸۳ اسلامی فقہ کا ایک اصول یہ ہے کہ الاعمال بمقاصدھا۔ یعنی اعمال اپنے مقاصد کے تحت ہیں۔ شریعت میں کوئی عمل مقرر کیا جائے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ عمل برائے عمل ہے، بلکہ وہ عمل برائے مقصد ہے۔ اعمال مقاصد کے تحت ہیں نہ کہ مقصد اعمال کے تحت۔ شرعی اعمال کی حکمت سمجھنے کے لئے ان کے مقاصد پر غور کرنا چاہئے ۔ ۲۸ اگست ۱۹۸۳ انگریزی کی ایک مثل ہے کہ وہ بھی خدمت کرتے ہیں جو صرف کھڑے ہوں اور انتظار کریں: They also serve who only stand and wait. یہ مثل بہت با معنی ہے۔ کیوں کہ جو شخص کھڑا ہو جائے وہ کم از کم اتنا کرتا ہے کہ راستہ کی بھیڑ میں کمی کرتا ہے۔ وہ باہمی ٹکراؤ کے امکان کو کم ازکم اپنی حد تک گھٹاتا ہے۔ اسی لئے حدیث میں آیا کہ فتنے کے زمانہ میں گھر میں بیٹھ جانے والا باہر چلنے والے سے بہتر ہوگا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page