Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 142

By Maulana Wahiduddin Khan

اجتماعی معاملات میں دخل دینا ایک بے حد نازک کام ہے۔ اجتماعی معاملہ میں کودنے سے پہلے آدمی کو ہزار بار سوچنا چاہئے۔ اور جو شخص اتنا زیادہ سوچنے اور سمجھنے کا اہل نہ ہو اس کا خاموش بیٹھے رہنا اس سے اچھا ہے کہ وہ کم تر سوچ کے ساتھ میدان میں کود پڑے اور پھر فساد میں اضافے کا سبب بنے۔ ۲۹ اگست ۱۹۸۳ء لما عزم المامون علی قتل ابراهيم بن المهدي، وكان مصمماً على قتله، تشاور فيه احمد بن ابي خالد الوزير فقال: يا امير المومنين، ان قتلته فلك نظير، وان عفوت عنه فمالك نظير - فعطاعنه۔ خلیفہ مامون نے جب ابراہیم بن مہدی کے قتل کا ارادہ کیا، اور وہ اس کے قتل کا پختہ ارادہ کر چکا تھا، اس نے اس معاملہ میں اپنے وزیر احمد بن ابی خالد سے مشورہ کیا۔ وزیر نے کہا کہ اے امیر المومنین، اگر آپ اس کو قتل کر دیں تو آپ کے لئے مثالیں موجود ہیں، اور اگر آپ اس کو معاف کر دیں تو آپ کے لئے کوئی مثال نہیں۔ چنانچہ مامون نے اس کو معاف کر دیا۔ وزیر کا مطلب یہ تھا کہ اگر آپ نے انھیں قتل کیا تو آپ وہی کریں گے جو سب لوگ ایسے موقع پر کرتے ہیں، اور اگر آپ معاف کر دیں تو آپ وہ کام کریں گے جو کسی نے نہیں کیا۔ وزیر کے اس جملہ نے خلیفہ مامون کے احساس کو جگا دیا۔ پہلے وہ اس کو قتل کر دینے میں اپنی بڑائی سمجھتا تھا، اب اس کو نظر آیا کہ معاف کر دینا زیادہ بڑا کام ہے۔ اس احساس نے اس کو مجبور کیا کہ وہ اسے معاف کر دے۔ ۳۰ اگست ۱۹۸۳ء البرٹ آئنسٹائن (Albert Einstein) کا قول ہے کہ سائنس مذہب کے بغیر لنگڑی ہے۔ مذہب سائنس کے بغیر اندھا ہے: Science without religions is lame. Religions without science is blind. میرا خیال ہے کہ یہ بات زیادہ صحیح طور پر اس طرح کہی جاسکتی ہے کہ انسان سائنس کے بغیر لنگڑا ہے، اور انسان مذہب کے بغیر اندھا ہے۔ مذہب انسان کو وہ نقطہ نظر دیتا ہے جس کی روشنی میں وہ چیزوں کو دیکھ سکے۔ اسی طرح سائنس انسان کو وہ اسباب دیتی ہے جس سے وہ موجودہ دنیا میں اپنی زندگی کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page