ڈائری
Urdu book, p. 143
By Maulana Wahiduddin Khan
تشکیل کرسکے۔ ہندوستان کی آزادی کا قانون جب برطانی پارلیمنٹ میں پاس ہوا، اس وقت کلیمنٹ ایٹلی برطانیہ کے وزیر اعظم تھے۔ ان سے پہلے برطانیہ کے وزیراعظم ونسٹن چرچل تھے۔ انھوں نے اپنے زمانہ اقتدار میں یہ کہہ کر ہندوستان کو آزادی دینے سے انکار کر دیا تھا کہ میں شاہ برطانیہ کا پہلا وزیر اس لئے نہیں بنا ہوں کہ برطانوی سلطنت کے خاتمہ کی تقریب کی صدارت کروں: I did not become the King's first minister to preside over the liquidation of the British empire. سابق برطانی وزیر اعظم جیمز کالھاگن کی ایک کتاب (وقت اور موقع) کے نام سے چھپی ہے: James Callaghan, Time And Chance مصنف لکھتے ہیں کہ برطانیہ کا ۱۹۴۵ کا الیکشن اگر ونسٹن چرچل جیت جاتے تو کیا ہوتا۔ وہ اپنے مزاج کے مطابق ہرگز انڈیا کو آزادی دینے کے لئے تیار نہ ہوتے اور طاقت کے ذریعہ اس پر قبضہ باقی رکھنے کی کوشش کرتے۔ مصنف مزید لکھتے ہیں کہ ہم انڈیا کی آزادی کو روک نہیں سکتے تھے۔ اس کے بعد ہندوستان کے عوام خونی تصادم کے ذریعہ آزادی حاصل کرتے ، اور پھر دونوں ملکوں کے درمیان تلخ احساسات مستقل طور پر باقی رہ جاتے۔ اسی کے متعلق کہا گیا ہے کہ : (Bitter feelings) ہر آنچه دانا کند کند نادان لیک بعد از خرابی بسیار یکم ستمبر ۱۹۸۳ حدیث کی کتابوں میں بہت سی روایتیں بدعت کے خلاف آئی ہیں۔ ان کے مطابق ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دین میں نئی بات نکالنے کو کفر اور ضلالت قرار دیا ہے اور اس سے اپنی بر أت کا اظہار فرمایا ہے۔ ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں : من عمل عملاً ليس عليه أمرنا فهو رد (جو شخص ایسا عمل کرے جو ہمارے عمل کے مطابق نہ ہو تو وہ قابل رد (rejected) ہے)۔ بدعت کے موضوع پر علماء نے بے شمار کتابیں اور مضامین شائع کئے ہیں۔ اور بدعت والی چیزوں پر سخت نعتیر کی ہے۔ مگر عام طور پر لوگ " بدعت" کے نام سے صرف کچھ خاص چیزوں کو جانتے ہیں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader