ڈائری
Urdu book, p. 144
By Maulana Wahiduddin Khan
اور انہیں کے خلاف لکھتے اور بولتے رہتے ہیں۔ مثلاً قبروں پر گنبد بنانا، جماعت کی صورت میں بیک آواز ذکر کرنا، یہ عقیدہ رکھنا کہ اولیا اپنی وفات کے بعد امور دنیا میں تصرف کرتے ہیں، یا یہ کہ ولی، نبی سے افضل ہوتا ہے۔ صرف اللہ کا لفظ پکار کر اللہ کا ذکر کرنا، باجماعت نماز کے بعد خود اپنے دائیں بائیں ہاتھوں سے مصافحہ کرنا، وغیرہ۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ بدعت کی بہت سی اس سے بھی زیادہ بڑی بڑی قسمیں ہیں جن میں موجودہ مسلمان مبتلا ہیں۔ حتیٰ کہ خود صاحبِ دین بدعت بھی ان میں ملوث ہیں۔ مثلاً گمراہ فرقوں یا غیرمسلموں سے سنجیدہ دعوتِ رسانی کے بجائے مناظرہ بازی کرنا، مدعو قوم سے اعراض کے بجائے جھگڑا کرنا، مسلم حکمرانوں کو اقتدار سے بے دخل کرنے کی مہم چلانا وغیرہ۔ اس قسم کے کام موجودہ زمانہ کے مسلمانوں میں بہت بڑے پیمانہ پر رائج ہیں۔ حالاں کہ ان کاموں پر حدیث کے مذکورہ الفاظ مصداق آتے ہیں۔ یہ سب کام دہ ہیں جو رسول اور اصحابِ رسول کے عمل کے مطابق نہیں۔ اس لئے وہ بدعت ہیں اور، حدیث کے مطابق، ہر بدعت قابلِ رد ہے۔ ۲ ستمبر ۱۹۸۳ تالمود میں ہے کہ سب سے بڑا امیر وہ ہے جو اپنے دشمن کو اپنا دوست بنالے : The greatest hero is he who makes his enemy his friend. یہ وہی بات ہے جو قرآن میں ان لفظوں میں کہی گئی ہے کہ اور بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں، تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو۔ پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی وہ ایسا ہوگیا جیسے کوئی قریبی دوست (حم السجدہ ۳۴) ۳ ستمبر ۱۹۸۳ قاضی محمد عدیل عباسی اپنی کتاب تحریک خلافت (مطبوعہ ۱۹۷۸ء) میں لکھتے ہیں کہ (۱۹۱۳ میں) ترکوں نے صلیب احمر کے جواب میں ہلال احمر کمیٹی بنائی تھی۔ اس کی تقلید میں ہندوستان کے ہر شہر میں ہلال احمر کمیٹیاں قائم ہوگئیں۔ مولانا محمد علی نے کاریڈ میں جب وفد انصاری کے لئے چندہ کی اپیل کی تو مسلمانوں نے کس طرح لبیک کہا، اسے میر محفوظ علی کی زبان میں سنیے جو مولانا محمد علی کے ساتھی اور کا مرید

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader