Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 145

By Maulana Wahiduddin Khan

کے نچوڑتے ، وہ فرماتے ہیں : ” اپریل نے کامریڈ کے دفتر میں روپیوں کی بارش شروع کر دی ۔ کامریڈ کے فائل گواہ ہیں کہ ایک ایک دن میں دس دس ، پندرہ پندرہ ہزار روپے موصول ہوئے ہیں ۔ اور میں گواہ ہوں کہ منی آرڈر اور پارسلوں پر دستخط کرتے کرتے میرا ہاتھ شل ہو گیا ہے ۔ صفحہ ۴۴ مسلمانوں نے روپیہ کی بارش کر دی ، مگر خدا کی رحمت کی بارش نہیں ہوئی ۔ کیسی عجیب بات ہے یہ ۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ خدا کا مطلوب کام نہ تھا۔ اگر کوئی قوم خدا کی مرضی کے لیے روپیوں کی بارش کرے تو ناممکن ہے کہ اس قوم پر خدا کی بارش نہ پھٹ پڑے ۔ ۴ ستمبر ۱۹۸۳ مولانا عبید اللہ سندھی ، مولانا محمود حسن صاحب کے شاگرد خاص تھے ۔ وہ کل قرآن کو جہاد کی تشریح میں تبدیل کئے ہوئے تھے (صفحہ ۴۵) ، قاضی محمد عدیل عباسی نے لکھا ہے کہ ” مورخ نجیب آبادی نے مجھ سے کہا کہ مولانا سندھی نے ان سے پوچھا کہ ایک لفظ میں بتاؤ کہ قرآن کی تعلیم کا منشا کیا ہے ۔ پھر خود ہی کہا کہ حکومت “ تحریک خلافت ( مطبوعہ ۱۹۷۸ ) صفحہ ۴۶ یہی اس زمانہ میں علماء دیو بند کا عام ذہن تھا ۔ وہ سارے دین کو حکومت اور سیاسی جہاد کے معنی سمجھے ہوئے تھے ۔ مگر اس نظریہ کا ماخذ یقینی طور پر قرآن نہ تھا ۔ بلکہ وہ مخصوص سیاسی حالات تھے جن کے درمیان یہ علماء اپنے آپ کو پا رہے تھے ۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ عربی زبان جاننا ، مدرسہ دینی کا سند یافتہ ہونا ، حتی کہ مخلص ہونا بھی قرآن نہی کے لئے کافی نہیں ۔ قرآن فہمی کے لئے شرط لازم یہ ہے کہ آدمی حالات سے اوپر اٹھ کر سوچ سکے ۔ اس کو خدا کی توفیق سے ادرک الاشیاء کماھی والی نگاہ حاصل ہوگئی ہو ۔ ۵ ستمبر ۱۹۸۳ ” اونٹوں نے راگ چھیڑا ، گدھوں نے رقص کیا “ یہ ایک مثل ہے جو پرانے زمانے کے ایک قصہ پر مبنی ہے ۔ یہ مثل موجودہ زمانہ کے مسلمانوں پر پورے طور پر صادق آتی ہے ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلم قائدین اونٹوں کی طرح بے معنی راگ چھیڑتے رہے اور مسلم عوام اس کے اوپر گدھوں کی طرح بے معنی رقص کرتے رہے ۔ یہی وجہ ہے کہ جان و مال کی بے حساب قربانیوں کے باوجود مسلمانوں کے حصہ میں کچھ نہ آیا ۔ یہ الفاظ بلا شبہ بے حد سخت ہیں ۔ مگر میں کیا کروں کہ میرا مطالعہ مجھے جس نتیجہ پر پہنچاتا ہے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page