Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 146

By Maulana Wahiduddin Khan

وہ یہی ہے۔ ایک عربی مقولہ ہے: الاستقامة فوق الكرامة (استقامت کرامت سے بھی اوپر ہے)، یعنی آدمی اگر استقلال کے ساتھ کام کرے تو وہ اس سے بھی زیادہ بڑی کامیابی حاصل کرے گا جو کوئی صاحب کرامت آدمی کرامت کے ذریعہ حاصل کر سکتا ہے۔ ۷ ستمبر ۱۹۸۳ء اموی خلیفہ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے ایک بار حج ادا کیا۔ انھوں نے دیکھا کہ کچھ لوگ اپنی سواری تیز دوڑانے کی کوشش کر رہے ہیں اور ایک دوسرے سے آگے نکل جانا چاہتے ہیں۔ انھوں نے عرفہ کے خطبہ میں فرمایا : ليس السابق من سبق بعير و فرسه آگے بڑھنے والا وہ نہیں جس کا اونٹ اور گھوڑا آگے و لكن السابق من غُفِرَ له بڑھ جائے۔ آگے بڑھنے والا وہ ہے جس کو بخش دیا جامع الاصول ، الجزء الثالث ، صفحه (۲۴۹) جائے ۔ یہی بات ہر عبادتی فعل پر صادق آتی ہے۔ مثلاً مسجدوں میں لوگ نماز پڑھنے کے لئے آتے ہیں تو پچھلی صف کے نمازیوں کی گردنیں پھلانگتے ہوئے اگلی صف میں پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حالاں کہ اگلی صف کا ثواب اس شخص کے لئے ہے جو نماز کو اپنی زندگی میں سب سے آگے جگہ دے ، نہ کہ اس کے لئے جو کسی نہ کسی طرح گھس کر اگلی صف میں اپنا مصلیٰ بچادے۔ ۸ ستمبر ۱۹۸۳ء مشہور جرمن فلسفی اسپینوزا ( ۱۶۳۲ - ۱۶۳۲ء) یہودی خاندان میں پیدا ہوا تاہم وہ بائبل بلکہ خود مذہب کا زبردست ناقد تھا۔ اس کو عام طور پر ملحد سمجھا جاتا ہے۔ مگر اس کی زندگی بتاتی ہے کہ دولت کی حرص اس کے اندر بالکل نہیں تھی۔ اس نے دولت حاصل کرنے کے کئی اعلیٰ مواقع بے نیازانہ طور پر ٹھکرا دئے۔ وہ جرمن کے علاوہ لاطینی، یونانی اور انگریزی زبان جانتا تھا۔ ایک یونیورسٹی میں اس کو فلسفہ کے استاد کی جگہ کی پیشکش کی گئی۔ اس نے یہ کہہ کر اس کو قبول کرنے سے انکار کر دیا کہ فلسفہ کوئی بیچنے کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page