Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 147

By Maulana Wahiduddin Khan

چیز نہیں : Philosophy is not for sale. حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کی بے نیازی کا تعلق لازمی طور پر تقویٰ سے نہیں ہے۔ وہ ایسے افراد میں بھی پائی جاسکتی ہے جن کا تعلق نہ تقویٰ سے ہو اور نہ خدا پرستی سے۔ ۱۹۸۳ء ستمبر ۹ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ پہنچے تو آپ نے اپنے اصحاب سے فرمایا کہ گنتی کر کے مجھے بتاؤ کہ کلمہ اسلام کا اقرار کرنے والے لوگ یہاں کتنے ہیں۔ چنانچہ گنتی کی گئی تو کل ایک ہزار پانچ سو افراد تھے (قال صلی الله عليه وسلم بعد الهجرة : احصو لي عدد من يلفظ بالإسلام . فاحصو اله . فكانوا الفاً وخمس مأة ، رواه البخاری ومسلم) یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ تھا۔ مگر موجودہ زمانے کے مسلمان جو "رسول" کے نام پر اپنی تحریکیں چلاتے ہیں ، ان کے یہاں اس قسم کی کوئی کوشش نہیں پائی جاتی۔ حتی کہ اگر کوئی شخص اس قسم کی معلومات جمع کرے تو اس کو دنیا دارانہ عمل سمجھا جائے گا۔ مثلاً ہندوستان کے علماء نے کبھی یہ نہیں کیا کہ وہ ملک کے مدرسوں اور مسجدوں کی تعداد کا پتہ لگائیں۔ ہندوستان کا ہر سلمان "فساد" کے مسئلہ پر بولتا ہے ، مگر پہلی نصف صدی میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ فسادات کی باقاعدہ فہرست بنائی جائے۔ مسلمانوں کی دینی، تعلیمی ، اقتصادی اور معاشرتی حالت پر ہر آدمی رائے زنی کر رہا ہے۔ مگر کسی نے بھی باقاعدہ جائزہ لے کر اس سلسلہ کے اعداد و شمار جمع نہیں کئے ، وغیرہ۔ ۱۹۸۳ء ستمبر ۱۰ حدیث میں لایعنی (بے فائدہ) کلام سے روکا گیا ہے۔ بے فائدہ کلام کیا ہے ، مختلف لوگوں نے اپنے اپنے الفاظ میں اس کی تشریح کی ہے۔ امام غزالی کا قول ہے کہ بے فائدہ کلام وہ ہے کہ اگر تم چپ رہو تو تمہیں اس کی وجہ سے کوئی گناہ نہ ہو (حدّث الكلام فيما لا یعنیك ان تتكلم بكلام لو سكت عنه لم تأثم ) ایک اہل حدیث عالم کا مضمون پڑھا۔ انھوں نے لکھا ہے کہ " احادیث صحیحہ سے ثابت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page