ڈائری
Urdu book, p. 148
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے کہ نماز خواہ سری ہو یا جہری۔ امام ہو یا مقتدی ۔ ہر ایک کے لئے رکوع سے قبل قیام میں سورہ فاتحہ پڑھنا فرض ہے۔ اس کے بغیر نماز نہیں ہوگی۔ انھوں نے احناف کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا ہے کہ انہیں چاہئے کہ اپنی نمازیں صحیح کریں۔ ایسا نہ ہو کہ حشر کے دن ان کے نامہ اعمال نماز سے خالی ہوں۔ جو زندگی بھر حق ظاہر ہو جانے کے بعد جہری نمازوں میں امام کے پیچھے سورہ فاتحہ کی فرضیت سے انکار کر کے اس کو ترک کرتے رہے: انہوں نے اپنی دلیل میں وہ احادیث پیش کی ہے جو امام بخاری نے عبادہ بن صامت سے نقل کیا ہے : لا صلوة لمن لم يقرأ بفاتحة الكتاب ۔ مگر قرین قیاس یہ ہے کہ اس طرح کی روایتوں کا تعلق عموم سے ہے نہ کہ استثناء سے۔ قرآن میں ہے کہ جب قرآن پڑھا جائے تو سنو اور چپ رہو۔ حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ من كان له امام فقرأة الامام قراة له جس شخص نے امام کے پیچھے نماز پڑھی تو امام کی قرأت اس کے لئے کافی ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اکیلا نماز یا سری نماز میں فاتحہ پڑھنا ضروری ہے۔ گرمب امام آواز سے قرأت کر رہا ہو تو اس کی قرأت مقتدی کے لئے کافی ہو جائے گی۔ البتہ عشاء کی نماز میں ابتدائی دو رکعتوں میں امام کی قرأت مقتدی کے لئے کافی ہے۔ اور بعد کی دو رکعتوں میں مقتدی کو فاتحہ پڑھنا چاہئے۔ امام مسلم نے ابو ہریرہؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص نے نماز ادا کی اور اس میں سورہ فاتحہ کی قرأت نہ کی تو اس کی نماز ناقص ہے، پوری نہیں۔ آپ نے تین بار فرمایا۔ ابو ہریرہ سے پوچھا گیا کہ جب ہم امام کے پیچھے ہوں ۔ ابو ہریرہ نے کہا : اقرأ بها نفسك - مذکورہ اہل حدیث عالم نے اس کا ترجمہ کیا ہے کہ آہستہ آواز سے پڑھ لیا کرو۔ یہ ترجمہ صحیح نہیں۔ ان الفاظ کا صحیح ترجمہ یہ ہوگا: اسے جی میں پڑھ لو۔ غالب اقرأ بها فى نفسك سے مراد معنوی قرأت ہے۔ امام کی قرأت کے وقت اگر مقتدی اس کی پوری طرح سماعت کرے تو عملاً یہ ہوگا کہ جس وقت امام لفظی قرات کر رہا ہوگا ، مقتدی اس کی معنوی ادائگی کر رہا ہوگا۔ اور غالباً اس فقرہ سے یہی مراد ہے۔ اسلامی فقہ میں پانی کی طہارت کے بارہ میں جو مسائل ہیں، ان میں سے ایک مسئلہ یہ ہے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader