ڈائری
Urdu book, p. 15
By Maulana Wahiduddin Khan
اور ان کے ساتھ مل کر جنگ کروں ۔ راوی کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر پہنچی کہ اہل فارس نے اپنے اور کسریٰ کی لڑکی کو حاکم بنایا ہے تو آپ نے فرمایا : وہ قوم ہرگز فلاح نہیں پائے گی جو عورت کو اپنا حاکم بنائے اصحابِ جمل کی قیادت حضرت عائشہ جیسی خاتون کر رہی تھیں، مگر رسول اللہ کا ایک قول ابوبکرہ کے لئے کافی ہوگیا کہ وہ اس معاملہ میں حضرت عائشہ کا ساتھ نہ دیں۔ یہ صحابی کی روش تھی، اب اسی پر پاکستان کے اسلامی مفکرین کا اندازہ کیجئے جنہوں نے 1965 میں خود مس فاطمہ جناح کو صدارت کے لئے کھڑا کیا اور ان کی شکل تائید کی، اگرچہ وہ الیکشن میں ہار گئیں۔ ۲۳ جنوری ۱۹۸۳ ایک شخص اپنے دوستوں کے ساتھ روزانہ دریا پر نہانے جایا کرتا تھا۔ ایک روز ایسا ہوا کہ اس کی طبیعت خراب ہوگئی۔ اس کو بخار آگیا۔ اس نے اپنے دوستوں سے کہا کہ آج مجھے بخار ہے۔ آج میں نہانے کے لئے نہیں جاؤں گا۔ دوستوں نے اس کی بات کا لحاظ نہیں کیا۔ وہ پرجوش الفاظ بول کر اس کو پھسلاتے رہے۔ یہاں تک کہ وہ ان کے ساتھ دریا کے لئے روانہ ہوگیا۔ گر جب وہ نہاکر لوٹا تو اس کا بخار تیز ہوگیا تھا۔ یہاں تک کہ اس کو نونیہ اور سرسام ہوگیا اور اسی میں وہ مرگیا۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کا حال ایسا ہی کچھ ہوا ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان ہر اعتبار سے کمزور ہوگئے تھے۔ دور جدید کے اعتبار سے وہ اپنے کو مستحکم اور طاقت ور نہیں بنا سکے۔ بالفاظ دیگر، وہ " بخار" میں مبتلا تھے۔ مگر موجودہ زمانہ کے مسلم رہنماؤں نے اس راز کو نہیں سمجھا۔ وہ مسلمانوں کے نادان دوست ثابت ہوئے۔ انھوں نے کام اس کو سمجھا کہ بڑے بڑے الفاظ بول کر مسلمانوں کا جوش ابھار دیں۔ چنانچہ شاعری اور خطابت اور انشا پردازی کے ذریعے وہ قوم کو جہاد وقتال کے لئے ابھارتے رہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمان جوش میں آگر دوسری قوموں سے لڑنے لگے۔ تیاری کے بغیر انھوں نے ہر ایک سے ٹکراد شروع کر دیا۔ مسلمانوں کا یہ ٹکراد عدم تیاری کی بنا پر، ان کے لئے الٹا پڑا۔ ساری دنیا میں وہ یک طرفہ طور پر شکست اٹھاتے رہے۔ ان کا انجام اس شخص کا سا ہوگیا جس کو شدید ٹمپریچر تھا مگر اس کے دوستوں نے اس کا علاج تو نہیں کیا، البتہ جوش دلا کر اس کو دریا میں کودایا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader