ڈائری
Urdu book, p. 150
By Maulana Wahiduddin Khan
چھ سو تک بتائی ہے ۔ انھوں نے طلب علم کے لئے مصر کے علاوہ شام ، حجاز، یمن ، ہندوستان مغرب اور دوسرے ملکوں کا سفر کیا۔ ان کے اساتذہ کی تعداد ۱۵۱ تک شمار کی گئی ہے۔ علامہ سخاوی نے علامہ سیوطی کی بابت لکھا ہے کہ ان کی مؤلفات کی تعداد اتنی زیادہ اس لئے ہے کہ وہ دوسروں کی کتابوں کو اپنے نام کے ساتھ منسوب کرتے تھے۔ ان کی مؤلفات میں بہت سی کتابیں ان کے شیوخ (اساتذہ) کی ہیں جن پر انھوں نے بحیثیت مؤلف اپنا نام لکھ دیا۔ اسی طرح انھوں نے کتب خانوں سے کتابیں لیں۔ ان میں معمولی تبدیلی کی ، مثلاً آگے کی بحث کو پیچھے اور پیچھے کی بحث کو آگے کر دیا اور اس کو اپنے نام کے ساتھ منسوب کر لیا (سخاوی ، الضوء اللامع) ضروری نہیں کہ علامہ سخاوی کی یہ بات صحیح ہو۔ مگر اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ جن شخصیتوں کو لوگ آج انتہائی احترام کے ساتھ ذکر کرتے ہیں ، ان کے بارہ میں کہنے والے کیا کیا باتیں کہتے رہے ہیں۔ اس قسم کے الزامات نے شاید تاریخ اسلام کی کوئی بھی شخصیت بری نہیں۔ ۱۵ ستمبر ۱۹۸۳ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تین عمل آدمی کے اوپر بہت سخت ہے ۔ ہر حال میں اللہ کا ذکر کرنا ، بھائیوں کی اپنے مال سے مدد کرنا ، اور اپنے معاملہ میں لوگوں کے ساتھ انصاف کرنا (قال على كرم الله وجهه اشد الاعمال ثلاثة : ذكر الله على كل حال، ومواساة الاخوان بالمال، وانصاف الناس من نفسك) ۱۶ ستمبر ۱۹۸۳ فقہاء نے مصلحت شرعی کی دو قسمیں قرار دی ہیں ۔ مصالح معتبره ، اور مصالح ملغاة ۔ مصالح معتبره مراد وہ مصلحت ہے جس کا شریعت نے اعتبار کیا ہو ۔ اور مصالح ملغاة سے مراد وہ مصلحت ہے جس کو شریعت نے لغو قرار دیا ہو ۔ جان کی حفاظت کے لئے شریعت نے قصاص کا حکم دیا ہے۔ اسی طرح مال کی حفاظت کے لئے سرقہ کی حد مقرر کی ہے۔ یہ مصالح معتبرہ کی مثالیں ہیں۔ حضرت عمر نے تقسیم وظائف کے لئے رجسٹر بنانے کا حکم دیا جو پہلے نہ تھا ، یہ استنباطی طور پر مصالح معتبرہ میں شمار کیا جائے گا۔ میراث میں قرآن نے یہ قاعدہ مقرر کیا ہے کہ مرد کو عورت سے دگنا حصہ دیا جائے (النسا ء)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader