Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 151

By Maulana Wahiduddin Khan

اب اگر کوئی شخص بطور خود کوئی وجہ بتاکر یہ کہے کہ مرد اور عورت دونوں کو برابر کا حصہ ملنا چاہئے تو یہ ایک لغو مصلحت ہوگی جس کا اعتبار کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہ مصالح مُلغَاۃ کی مثال ہے۔ اسی طرح ہر معاملہ میں کوئی مصلحت قابل اعتبار ہوتی ہے اور کوئی مصلحت نا قابل اعتبار۔ ۱۷ ستمبر ۱۹۸۳ء علماء اور بز رگوں کے بارہ میں بہت سے ایسے قصے کتابوں میں لکھے ہوئے ہیں جو مجھے فرضی اور بناوٹی معلوم ہوتے ہیں، کیوں کہ وہ فطرت کے خلاف ہیں۔ مثلاً کہا جاتا ہے کہ سلطان غوری نے ایک بار علامہ سیوطی کے پاس ایک ہزار دینار کی تھیلی بھیجی۔ انھوں نے اس کو لوٹا دیا اور بادشاہ کے فرستادہ سے کہا کہ ہمارے پاس پھر کبھی کوئی ہدیہ مت لانا۔ کیوں کہ اللہ نے ہم کو اس قسم کی چیزوں سے بے نیاز کر دیا ہے (فرد الدنانير وقال لرسول السلطان: لا تقعد تا تينا قط بهدية فان الله أغنانا عن مثل ذلك) یہ واقعہ علامہ سیوطی کے زہد و تقویٰ کے ثبوت میں پیش کیا جاتا ہے۔ مگر زہد و تقویٰ آدمی کے اندر تواضع پیدا کرتا ہے، جب کہ اس واقعہ میں مجھے کبر کا شائبہ دکھائی دیتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہدایا آتے تھے، مگر کبھی آپ نے کسی صاحب ہدیہ سے مذکورہ قسم کا معاملہ نہیں فرمایا۔ زہد و تقویٰ وہی ہے جس کا نمونہ سنتِ رسول میں موجود ہو، جو نمونہ سنتِ رسول میں موجود نہ ہو، وہ کچھ اور تو ہو سکتا ہے مگر وہ زہد و تقویٰ نہیں ہو سکتا۔ ۱۸ ستمبر ۱۹۸۳ء خوارج کے فرقہ ضالہ ہونے پر تمام علماء کا اتفاق ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ وہ اپنی تمام تر گمراہی کے با وجود نہایت صاحب کردار لوگ تھے۔ امام ابن تیمیہ نے ان کے بارہ میں لکھا ہے کہ خوارج دین سے نکل جانے کے باوجود لوگوں میں سب سے زیادہ سچے ہیں، یہاں تک کہ کہا گیا ہے کہ ان کی حدیثیں سب سے زیادہ صحیح حدیثیں ہیں (الخوارج مع مروقهم من الدين فهم أصدق الناس لهجة قال ابن تيمية: أصح الحديث حديث الخوارج)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page