Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 152

By Maulana Wahiduddin Khan

نہیں لگایا ہے۔ البتہ بعض افراد مثلاً ابن ابہیہ نے ان کو حدیث وضع کرنے والوں میں شمار کیا ہے۔ اس سلسلہ میں ان کی دلیل یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک خارجی عالم کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ یہ حدیثیں دین ہیں۔ پس تم خوب دیکھ لیا کرو کہ تم کس سے اپنا دین لے رہے ہو۔ کیوں کہ ہم جب کسی چیز کے خواہشمند ہوتے ہیں تو اس کو حدیث کی صورت دے دیتے ہیں (ان هذه الاحاديث دين فانظروا عمن تأخذون دينكم فاذا كان اذا هو بينا امرأصيرنا لا حديثاً) تاہم محض اس واقعہ سے ابن ابہیہ کا دعویٰ ثابت نہیں ہوتا۔ کیوں کہ خارجی عالم کے اس قول میں "ہم" سے مراد عام مسلمان ہیں نہ کہ خارجی فرقہ۔ ۱۹ ستمبر ۱۹۸۳ ایک "حدیث" ہے کہ الایمان قول و عمل یزید و ينقص ومن قال غير ذالك فهو مبتدع (ایمان قول اور عمل ہے۔ وہ بڑھتا ہے اور گھٹتا ہے اور جو شخص اس کے علاوہ کہے تو وہ بدعتی ہے)، دوسری "حدیث" ہے کہ من زعم الایمان يزيد وينقص فزيادته نفاق ونقصانه کفر فان تابوا و إلا فاضربوا أعناقهم بالسيف (جس شخص نے یہ خیال کیا کہ ایمان بڑھتا ہے اور گھٹتا ہے تو اس کا زیادہ ہونا نفاق ہے اور اس کا کم ہونا کفر ہے۔ ایسا شخص توبہ کرے تو ٹھیک ہے ورنہ تلوار سے اس کی گردن مار دو) ایک عام آدمی ان دونوں اقوال کو پڑھے تو شدید حیرانی میں پڑ جائے گا۔ کیوں کہ دونوں میں تضاد ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ موضوع فقرے ہیں، وہ حدیث رسول نہیں ہیں۔ عباسی دور میں مسلمانوں کے اندر جو بحثیں پیدا ہوئیں ان میں سے ایک یہ تھی کہ ایمان یکساں حالت میں رہتا ہے یا زیادہ اور کم ہوتا ہے۔ اس بحث میں دو فریق بن گئے اور دونوں نے اپنے اپنے حق میں فرضی حدیثیں گھڑیں۔ مذکورہ دونوں "حدیثوں" میں اول الذکر احمد بن محمد بن حرب کی گھڑی ہوئی ہے اور ثانی الذکر محمود بن قاسم الطالقانی کی گھڑی ہوئی۔ شعور کی مختلف سطحیں ہیں۔ اگر ایک شخص شعور کے اعتبار سے مادی سطح پر ہو تو وہ غیر مادی (روحانی) حقیقتوں کا ادراک نہیں کر سکتا۔ مثلاً ایک مستشرق نے پیغمبر اسلام کے بارہ میں ایک کتاب لکھی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page