ڈائری
Urdu book, p. 154
By Maulana Wahiduddin Khan
وجب على ولیه ان یحج عنه او یجهزه من ماله ، سواء اوصی المیت بالحج ام لم یوص. وقال الامام مالک۔ یجب الحج عن المیت ان کان قد اوصی بذلک۔ اما اذا لم یوص بالحج فلا یجب للحج عنه ، لان الحج عنده عبادة بدنیة لا تقبل النیابة) اس مسئلے کی بنیاد بخاری کی ایک روایت پر ہے جس میں ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تھا کہ میری ماں نے حج کی نذر کی تھی۔ مگر وہ حج کئے بغیر مر گئی۔ کیا میں اس کی طرف سے حج کروں ۔ آپ نے فرمایا ہاں ۔ اس حدیث میں اس آدمی کا ذکر ہے جس نے حج کی نیت کر رکھی تھی ، مگر ادائیگی سے پہلے اس کی وفات ہو گئی۔ دوسری ایسی کوئی روایت نہیں جس میں میت کی طرف سے عمومی طور پر حج کی ادائیگی کی ہدایت کی گئی ہو۔ میرے نزدیک اس معاملے میں امام مالک کا مسلک صحیح ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ صرف مالی قرض ایک ایسی چیز ہے جس میں استثنائی طور پر یہ حکم ہے کہ میت کی طرف سے ہر حال میں اس کو ادا کیا جائے۔ عبادتی امور میں صرف نیت کا اعتبار کیا جائے گا ۔ (بخاری کی مذکورہ روایت میں دین (قرض) کا لفظ ہے، مگر وہ مجازی معنی میں ہے نہ کہ حقیقی معنوں میں ۔ اس سے انسانی قرض پر قیاس نہیں کیا جا سکتا) ۲۳ ستمبر ۱۹۸۳ عام طور پر تفسیر قرآن کی دو قسمیں کہی جاتی ہیں ۔ تفسیر بالماثور، اور تفسیر بالرای ۔ یعنی حدیث اور اثری قرآن کی تفسیر کرنا ، اور اپنی رائے سے تفسیر کرنا ، مگر میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک غیر واضح تقسیم ہے۔ میرے نزدیک صحیح تقسیم دوسری ہے ، اور وہ مخلص اور غیر مخلص کی ہے۔ آدمی اگر غیر مخلص ہو تو ایسا ہو سکتا ہے کہ بظاہر وہ تفسیر بالماثور پر عمل کرے مگر حقیقت میں وہ اپنی خواہش کی پیروی کر رہا ہو۔ اس کے برعکس ایک شخص اگر مخلص ہے ، وہ اللہ سے ڈرنے والا ہے۔ وہ قرآن پر اور اس کے سارے متعلقہ پہلوؤں پر غور کرتا ہے جن میں احادیث و آثار بھی لازماً شامل

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader