ڈائری
Urdu book, p. 155
By Maulana Wahiduddin Khan
ہیں۔ اس کے بعد وہ دیانت دارانہ طور پر ایک زلتے پر پہنچتا ہے۔ کسی شخص کو اس کی تفسیر بلا ہر تفسیر بالرای نظر آسکتی ہے۔ مگر حقیقت وہ عین وہی چیز ہوگی جس کے لئے تفسیر بالماثور کی اصطلاح وضع کی گئی ہے۔ جہاں تک میری ذات کا تعلق ہے ، میں عملاً تفسیر بالماثور ہی پر عمل کرتا ہوں۔ کسی آیت کی جو تفسیر سلف سے منقول ہے ، میں اسی کو اختیار کرتا ہوں ، تذکیر القرآن میں میں نے یہی کیا ہے۔ اس میں علما رسلف کی تفسیر کو اپنی زبان اور اسلوب میں بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ۲۴ ستمبر ۱۹۸۳ عن ابى موسى الاعرى رضى الله عنه قال كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فكنا اذا أشرفنا على واد هَيلنا وكبرنا وارتفعت اصواتنا - فقال الني صلى الله عليه وسلم : يا أيها الناس، ارفعوا على انفسكم فإنكم لا تدعون أصم أو غائباً أنه معكم انه سميع قريب۔ حضرت ابوموسیٰ اشعری کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے۔ جب ہم کسی وادی پر پہنچے تو ہم لا الہ الا اللہ اور اللہ اکبر کہتے۔ اور ہماری آوازیں بلند ہوگئیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے لوگو، اپنی جانوں کو آرام دو۔ کیوں کہ تم کسی بہرے یا کسی غائب کو نہیں پکار رہے ہو۔ وہ تو تمہارے ساتھ ہے ، وہ سننے والا ہے ، قریب ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان جس طرح لاؤڈ اسپیکر پر پرشور انداز میں اپنی مذہبی تقریبات کرتے ہیں، اس کو سن کر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے خدا کو واقعہ وہی سمجھ لیا ہے جو پیغمبر اسلام نے فرمایا تھا۔ ۲۵ ستمبر ۱۹۸۳ قالوا : إذا اردت مصاحبة رجل فاغضبه فان ملك نفسه فصاحبه والا فلا تصاحبه (کہا گیا ہے کہ اگر تم کسی کو اپنا ساتھی بنانا چاہو تو اس کو غصہ دلاؤ۔ اگر وہ اپنے آپ پر قابو رکھے تو اس کو ساتھی بناؤ، ورنہ اس کو اپنا ساتھی نہ بناؤ) کوئی شخص معمول کے حالات میں اچھا نظر آئے تو یہ اس کے اچھا ہونے کا کافی ثبوت نہیں۔ اچھا آدمی حقیقتہ وہ ہے جو غصہ اور اشتعال کے وقت بھی اچھا ثابت ہو۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader