Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 156

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن میں ہے کہ جنات اور انسان کو میں نے صرف اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں (الذاریات ۵۶) مجاہد کا قول ہے کہ میں نے ان کو صرف اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ میری معرفت حاصل کریں۔ ثعلبی نے کہا کہ یہ قول عمدہ ہے۔ کیوں کہ اگر وہ ان کو پیدا نہ کرتا تو اس کا وجود اور اس کی توحید پہچانی نہ جاتی، وقال مجاهد: وما خلقتهم الا يععرفون۔ قال الثعلبي: هذا قول حسن لانه لو لم يخلقهم لما عرف وجوده وتوحيده ) آیت کی یہ نہایت صحیح تشریح ہے۔ جہاں تک میں نے سمجھا ہے، بندوں سے اصلًا جو چیز مطلوب ہے وہ معرفت رب ہے۔ یعنی اللہ کے وجود کا زندہ اور اک۔ اس کو دیکھے بغیر دیکھ لینا۔ اپنے آس پاس کی موجودگی (presence) کو محسوس کرنے لگتا۔ ۲۷ ستمبر ۱۹۸۳ علامہ اقبال نے لکھا ہے کہ "مسلمانوں کے تنزل کا انتہائی نقطہ ۹۹۷ ، اتھا جب ترکوں کا بیڑہ غرق اور سلطان ٹیپو کو شہید کر دیا گیا: یہ بظاہر ایک سادہ سی بات ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ صحیح نہیں۔ اس کی غلطی یہ ہے کہ اس میں ترقی اور تنزل کو محض ایک سیاسی واقعہ سمجھ لیا گیا ہے۔ اس تبصرہ کے مطابق اقتدار کا مطلب ترقی ہے۔ اور اقتدار سے محرومی کا مطلب تنزل۔ اسی غلط فکر کا یہ نتیجہ ہے کہ مسلمان "۹۹۷ سے لے کر اب تک اپنی ساری طاقت کسی نہ کسی اعتبار سے سیاسی تحریکوں میں لگائے ہوئے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ سیاست ہی کے میدان میں ان کی ترقی اور تنزل کا فیصلہ ہو گا، اس لئے ساری توجہ سیاسی حیثیت حامل کرنے پر لگاؤ۔ اگر مسلمان یہ سمجھتے کہ ان کی ترقی اور تنزل حقیقتہ دعوت سے وابستہ ہے تو وہ دعوت کے میدان میں اپنی قوت صرف کرتے۔ ۲۸ ستمبر ۱۹۸۳ ایک صاحب نے مشورہ دیا کہ آپ دوسروں پر تنقید کرنا چھوڑ دیں۔ اور صرف مثبت موضوعات پر لکھیں، مثلاً مذہب اور جدید مسیح وغیرہ۔ اس کے بعد کسی کو آپ سے شکایت نہیں ہوگی۔ اور آپ کے قارئین اور ہمدردوں کا حلقہ بہت زیادہ بڑھ جائے گا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page